دینی نصاب

by Other Authors

Page 123 of 377

دینی نصاب — Page 123

خدام اور متبعین میں سے ہوگا اور بس۔ایسا ایمان رکھتے ہوئے ہم بالکل امن میں ہونگے اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی مہدی کو کسی خاص قوم ہی سے قرار دیا ہے تو پھر بھی کوئی حرج لازم نہیں آئے گا۔کیونکہ جزو بہر حال گل کے اندر شامل ہوتا ہے۔ایک اور بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ گومہدی کے نام اور اس کے باپ کے نام کے متعلق اختلاف ہے لیکن پھر بھی زیادہ غالب مذہب یہی رہا ہے کہ مہدی کا نام محمد ہوگا اور مہدی کے باپ کا نام عبد اللہ ہوگا اور دراصل اس کی تائید میں جو روایات ہیں وہ بھی گوجرح قدح سے پاک نہیں لیکن دوسری روایات سے پھر بھی اصول روایت کے لحاظ سے زیادہ وزن دار ہیں۔پس اگر ہم اس قول کو ترجیح دیں تو بعید از انصاف نہیں لیکن اس صورت میں بھی حضرت مرزا صاحب کے دعوی پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔کیونکہ سورۃ جمعہ کی آیت وَأَخَرِيْنَ مَنْهُمْ سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں ایک اور قوم کی بھی روحانی تربیت فرمائیں گے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ آخری زمانہ میں آپ کا ایک بروز مبعوث ہو گا جو آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر ایک جماعت کی تربیت کریگا۔پس ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی موعود کا نام محمد اور اس کے باپ کا نام عبداللہ اس لئے بیان فرمایا کہ تا اس مفہوم کی طرف اشارہ ہو کہ مہدی کوئی مستقل وجود نہیں رکھتا بلکہ وہ آپ کا وہی بروز ہے جس کی سورۃ جمعہ میں پیشگوئی فرمائی گئی ہے۔گویا مہدی کے نام کے متعلق محمد بن عبد اللہ کے الفاظ استعمال کرنے سے یہ بتانا مقصود نہ تھا کہ اس کا نام و پتہ بتایا جاوے بلکہ یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ مہدی کی بعثت گویا میری ہی بعثت ہے اور مہدی کا وجود گویا میرا ہی وجود ہے اور آپ کے الفاظ بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ حدیث میں یہ نہیں آیا کہ مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہوگا بلکہ آپ کے الفاظ یہ ہیں۔يُوَاطِی اِسْمُهُ اِسْمِی وَاِسْمُ آبِيْهِ اِسْمُ آبی ( مشکوۃ باب اشراط الساعة ) یعنی ” مہدی کا نام میرا نام ہوگا اور مہدی کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہوگا“۔پس یہ طرز کلام ہی آپ کے منشاء کو ظاہر کر رہا ہے۔123