دینی نصاب — Page 111
دیا گیا تھا اور ٹھیک جس طرح موسوی سلسلہ کا آخری خلیفہ اسرائیلی مسیح ہوا اسی طرح یہ مقدر تھا کہ آخری ایام میں مسلمانوں میں بھی ایک مسیح بھیجا جائے گا جو اسلامی سلسلہ خلفاء کے دائرہ کو پورا کرنے والا اور کمال تک پہنچانے والا ہوگا۔گویا اس طرح ان دونوں سلسلوں میں اللہ تعالیٰ نے مشابہت بیان کی ہے جیسا کہ لفظ كما سے ظاہر ہے۔اب اہل علم جانتے ہیں کہ مشابہت مغایرت کو بھی چاہتی ہے پس ثابت ہوا کہ محمدی سلسلہ کا مسیح یعنی آخری خلیفہ موسوی سلسلہ کے مسیح سے جدا وجو در کھے اور گو وہ اس کا مثیل ہو گا مگر وہ اس کا عین نہیں ہوگا بلکہ اس سے جدا ہو گا۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منگم ( تم میں سے ) کا لفظ رکھ کر سارے جھگڑے کی جڑ کاٹ دی ہے اور صاف بتادیا ہے کہ مسلمانوں میں جو خلفاء ہونگے وہ مسلمانوں میں سے ہی ہونگے اور کوئی شخص باہر سے نہیں آئے گا۔تو اب پھر یہ کس قدر ظلم ہے کہ اپنی ضد پوری کرنے کیلئے محمدی سلسلہ کا آخری اور سب سے عظیم الشان خلیفہ بنی اسرائیل میں سے مبعوث کیا جانا خیال کیا جاوے اور اس طرح خدا کے وعدے کو جو اس نے منکم کے لفظ میں کیا رڈی کی طرح پھینک دیا جائے۔پھر یہی نہیں بلکہ حدیث بھی صاف طور پر بتارہی ہے کہ مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ہی ہوگا اور اسی اُمت کا ایک فرد ہوگا اور باہر سے نہیں آئے گا چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ( بخاری و مسلم بحوالہ مشکوۃ باب نزول عیسی بن مریم ) یعنی کیا ہی اچھا حال ہو گا تمہارا اے مسلمانو! جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور وہ تمہار امام ہوگا تمہیں میں سے۔یہ حدیث غیر تاویل طلب الفاظ میں بتا رہی ہے کہ مسیح موعود مسلمانوں میں سے ہی ایک 111