دینی نصاب — Page 110
موعود مسیح نے اسی اُمت میں سے ہونا تھا یہاں تک ہم نے بفضل خدایہ ثابت کیا ہے کہ قرآن شریف اور حدیث کی رُو سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ حضرت مسیح ناصری آسمان پر زندہ نہیں اُٹھائے گئے بلکہ فوت ہوچکے ہیں اور یہ کہ حیات مسیح کا مسئلہ بعد میں مسلمانوں کے اندر داخل ہوا ہے ورنہ صحابہ کرام نے تو اپنے سب سے پہلے اجماع میں فیصلہ فرما دیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنے نبی گزرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جس مسیح کا وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی اُمت میں سے ہوگا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وعد اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي (سورۃ نور آیت ۵۶) ارْتَضَى لَهُمْ - یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اُن لوگوں سے جو تم میں سے پختہ ایمان لائے اور صالحیت والے اعمال بجالائے کہ ضرور ضرور انہیں دنیا میں خلیفہ بنائے گا جس طرح کہ اُس نے ان لوگوں کو خلیفہ بنا یا جو اُن سے پہلے گزر چکے اور وہ ان کے اس دین کو جو اس نے اُن کیلئے پسند کیا ہے دنیا پر قائم کر دیگا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ وہ اُن میں اُسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء بنائے گا جس طرح اس نے بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ کے بعد بہت سے خلفاء بھیجے جو تورات کی خدمت کرتے تھے۔یہ سلسلہ موسوی خلفاء کا حضرت مسیح ناصری کے وجود میں اپنے کمال اور انتہا کو پہنچ گیا۔مسلمانوں کو بھی اسی قسم کے خلفاء کا وعدہ 110