دینی نصاب — Page 98
اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمد یت کی چادر پہنائی گئی۔“ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۵-۱۶) ۲ - اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خائم بتایا۔یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۷) آیت خاتم النبیین اور اُس کا مفہوم مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيَّاه (سورۃ احزاب : ۴۱) نہ محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں ( نہ ہوں گے ) لیکن اللہ کے رسول ہیں بلکہ (اس سے بڑھ کر ) نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر ایک چیز سے خوب آگاہ ہے۔یہ آیت سنہ پانچ ہجری میں اس وقت نازل ہوئی جب حضرت زید نے حضرت زینب کو طلاق دیدی اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کر لیا۔حضرت زید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ بولے بیٹے تھے۔جب حضور نے زید کی مطلقہ ( یعنی حضرت زینب) سے نکاح کیا تو کفار اور منافقین نے اعتراض کیا کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔جو کسی طرح درست نہیں۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ بیٹا نہیں بن جاتا۔حرمت تو حقیقی بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے میں ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حقیقی بیٹا نہیں۔اس لئے حضرت زینب سے نکاح پر اعتراض غلط ہے۔سورۃ احزاب کی آیت ے میں یہ کہا گیا تھا کہ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ 98