دینی نصاب — Page 79
ہے تو پیروں فقیروں کے ہاں حاضریاں دینے کی۔۔۔یہ سب لغویات ہیں بلکہ شرک ہے۔یہ تعویذ گنڈے کرنے والی جو عورتیں ہیں اگر آپ ان کے ساتھ رہ کر ان کا جائزہ لیں تو شاید وہ کبھی نماز نہ پڑھتی ہوں۔۔۔پھر ہمارے معاشرے میں یعنی جماعت کے باہر اس میں زندہ انسانوں کے علاوہ مردہ پرستی بہت ہے۔۔۔پیروں فقیروں کی قبروں پر جاتے ہیں اور وہاں مرادیں مانگتے ہیں اب ان قبروں کو بھی لوگوں نے شرک کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔( الازھار لذوات الخمار جلد 3 حصہ اول صفحہ 364،363) تمباکونوشی آج کل سگریٹ نوشی عام ہے اور فیشن میں داخل ہے۔کثرت استعمال کے باعث اس کو ضروری سمجھ لیا گیا ہے اور نقصان کے پہلو کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ا۔انسان عادت کو چھوڑ سکتا ہے بشرطیکہ اس میں ایمان ہو اور بہت سے ایسے آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی پرانی عادت کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو ہمیشہ شراب پیتے چلے آئے ہیں بڑھاپے میں آکر جبکہ عادت کو چھوڑ نا خود بیمار پڑنا ہوتا ہے بلا کسی خیال کے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور تھوڑی سی بیماری کے بعد اچھے بھی ہو جاتے ہیں۔میں حقہ کو منع کہتا اور ناجائز قرار دیتا ہوں مگر ان صورتوں میں کہ انسان کو کوئی مجبوری ہو۔یہ ایک لغو چیز ہے اور اس سے انسان کو پر ہیز کرنا چاہیئے۔“ 66 بدر ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء) ۲۔تمباکو کے بارے میں اگر چہ شریعت نے کچھ نہیں بتایا لیکن ہم اسے اس لئے مکروہ خیال کرتے ہیں کہ اگر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو آپ اس کے استعمال کو منع فرماتے“۔( بدر ۲۴ / جولائی ۱۹۰۳ء) 79