دینی نصاب

by Other Authors

Page 52 of 377

دینی نصاب — Page 52

اسمیں ابھی ادا کرنے کی توفیق نہیں؟ اگر اس وقت اس میں ادا کرنے کی توفیق نہ ہو۔تو پھر اسے کچھ مہلت دے دینی چاہیئے تا کہ وہ روپیہ ادا کر دے۔کیونکہ یہ مناسب نہیں کہ ایک احسان مند ( مقروض ) کو تنگ کیا جائے۔اور اگر اس نے عمداً ادانہ کیا ہو تو پھر قضاء ( عدالت ) میں دعویٰ کرنا چاہیئے۔قضاء اس سے حکما روپیہ ادا کروائے گی۔اگر مقروض فوت ہو جائے تو اس کے ترکہ میں سے سب سے پہلے قرضہ ادا کیا جائے گا۔لیکن اگر مقروض کا ترکہ اس قدر نہ ہو جس قدر کہ قرض ہے۔تو پھر اس کی اولاد پر وہ قرضہ ادا کرنا فرض ہے اور اگر کوئی سبیل بھی ادا ئیگی کی نہ ہو سکے تو پھر اسلامی حکومت کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ اس کی طرف سے قرضہ ادا کرے۔بہر حال قرض خواہ کا روپیہ ضائع نہیں ہوگا۔لیکن یہ دوسری بات ہے کہ قرض خواہ بطور احسان کسی مفلس مقروض کو معاف کر دے۔قرضہ ادا کرنا نہایت ضروری ہے۔اگر کوئی شخص اس جہاں میں اپنا قرضہ ادا نہیں کر یگا تو قیامت کے دن اس سے اس قرض کا مطالبہ کیا جائے گا۔اگر کوئی مقروض قرض ادا کرتے وقت اپنی طرف سے بطور شکریہ احسان کے اخذ کردہ روپیہ سے زاید روپیہ دیدے تو یہ بھی بہت اچھی بات ہے۔مگر جس قدر قرض لیا ہے اسی قدر تو میعاد معینہ کے اندرادا کرنا نہایت ضروری ہے۔زراعت مومنوں کو حلال اور پاک رزق کھانے کا حکم ہے کیونکہ اگر حلال اور پاک مال نہ کھایا جائے تو نیک کام کی بھی توفیق نہیں ملتی۔52