دینی نصاب — Page 51
ہاں اگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے سود لینا پڑے مثلاً کوئی شخص کسی بنک میں روپیہ جمع کراتا ہے تو سود ضرور ملتا ہے۔تو ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ سود کا روپیہ صرف اشاعت اسلام میں خرچ کرے اور اسے اپنے کسی مصرف میں نہ لائے۔کیونکہ سود کا روپیا اپنے کسی مصرف میں لا نا حرام ہے۔قرض قرض لینا اسلام نے جائز قرار دیا ہے۔اور حکم دیا ہے کہ اگر تمہارے پاس روپیہ نہ ہو تو تم قرض لے سکتے ہو۔اور مالدار لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اگر کسی کو روپیہ کی ضرورت ہو تو تم اس کو قرض دو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور احسان کرنا ہر مومن کا فرض ہے۔جو شخص ہمدردی کے طور پر کسی کو قرض دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہوتا ہے کہ اس نے میرے مسکین بندے پر احسان کیا۔اور اس کے مال میں ترقی دیتا ہے۔قرض کیلئے یہ شرط ضروری ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے قرض لے تو وہ تحریر کر لیں۔اور دو گواہ بنالیں۔اور ساتھ ہی مدت مقرر کر لیں کہ فلاں وقت تک یہ رو پیادا کر دیا جائے گا۔بغیر لکھنے اور لکھوانے کے قرض لینا یا دینا درست نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن شریف میں حکم دیا ہے کہ قرضہ لیتے یا دیتے وقت تم ضرور تحریر کر لیا کرو۔دوستی ، عزت یا اعتبار کا اس میں کوئی سوال نہیں۔قرض لینے کیلئے اپنی کوئی چیز مثلاً مکان یا زمین وغیرہ رہن رکھنا بھی جائز ہے۔بشرطیکہ اس کا قبضہ بھی مرتہن کو دیدیا جائے۔اگر قبضہ نہ دیا جائے تو یہ رہن جائز نہیں۔قرض وصول کرنا اگر وقت مقررہ پر قرض وصول نہ ہو سکے تو دیکھنا چاہیے کہ مقروض نے عمداً ادا نہیں کیا یا 51