دینی نصاب

by Other Authors

Page 35 of 377

دینی نصاب — Page 35

مالوں کو کم نہیں کرتے بلکہ ) بڑھاتے ہیں۔۳۔جب امام وقت موجود ہوتو زکوۃ اسی کے پاس آنی چاہئیے وہی بہتر جانتا ہے کہ اسے کس طرح خرچ کرے۔۴۔چندہ الگ چیز ہے اور زکوۃ الگ ہے۔جو شخص وصیت ادا کرتا ہے یا دوسرے طوعی چندے ادا کرتا ہے وہ زکوۃ کی ادائیگی سے مستثنی نہیں ہوسکتا۔۵- مندرجہ ذیل مالوں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے:۔چاندی ،سونا، سکے ،اونٹ، گائے، بھینس، بکری، بھیڑ ،دنبہ (نرومادہ) ، تمام غلے ،کھجور، انگور۔۶۔جن مالوں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ان میں سے ہر ایک کیلئے شریعت نے ایک حد مقرر کی ہے جو مال اس مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔اس حد اور مقدار کو نصاب کہتے ہیں۔ے۔غلوں ،کھجوروں، انگوروں پر اسی وقت زکوۃ یا معشر واجب ہوتی ہے جب ان کی فصل تیار ہو جائے اور مالک انہیں کاٹ لے لیکن باقی مال پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ مالک کے پاس ایک سال رہا ہو۔غلوں، کھجوروں اور انگوروں پر زکوۃ صرف ایک دفعہ واجب ہے خواہ وہ ایک سال سے زائد عرصہ رہیں لیکن باقی اموال پر ہر سال واجب ہوتی ہے بشرطیکہ ان کی مقدار نصاب سے کم نہ ہو۔۹۔غلہ کا نصاب ۲۱ من ۵ سیر (۷۸۱ کلو ۸۷۰ گرام ) ہے۔اس سے کم ہو تو زکوۃ واجب نہیں۔جس کھیت کیلئے پانی قیمت ادا کر کے نہ لیا گیا ہو گو یا بارانی زمین ہو تو اس کی شرح زکوۃ دسواں حصہ ہے لیکن جس کیلئے قیمت ادا کر کے پانی مہیا کیا گیا ہو مثلاً زمیندار خود نہر کھینچ کر لا یا ہو یا ٹیوب ویل لگوا کر زمین سیراب کرے تو اس کی شرح بیسواں حصہ ہے۔۱۰- چاندی کا نصاب ۵۲ تولہ ۶ ماشه ( ۶۱۲ گرام ۳۵۱ ملی گرام) ہے۔اور زکوۃ کی 35