دینی نصاب — Page 278
چاہئیے۔“ (الفضل اارا پریل ۱۹۸۱ء) ۳- گذشتہ جلسہ سالانہ (یعنی ۱۹۷۹ء) پر میں نے وظائف کا اعلان کیا تھا کہ مستحق اور ذہین طلباء کو بغیر ذہنی نشو و نما کے نہیں چھوڑا جائے گا۔اس کا نام انعامی وظیفہ نہیں بلکہ ادا ئیگی حقوق طلباء رکھنا چاہئے۔آئندہ دس برس کے اندر ہر احمدی قرآن کریم کی تعلیم اپنی عمر کے مطابق سیکھے۔یہ کام خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے ذمہ ہے۔۔۔پہلے مرحلہ میں ہر احمدی گھرانے میں ایک تو تفسیر صغیر کا ہونا ضروری ہے اور دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تفسیر قرآن بھی پڑھنی ضروری ہے۔میں نے اس سلسلہ میں خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ان کے خریدنے کیلئے اپنی اپنی کلب بنائیں اور جماعت ایک کمیٹی بنائے جوان ہر سہ تنظیموں میں Co-ordination رابطہ) پیدا کرے یہ جوسکیم میں نے کراچی سے شروع کی تھی آج اس میں وسعت پیدا کر رہا ہوں اور اسے ساری جماعت کیلئے دینی تعلیم سکھانے کی بنیاد بنا رہا ہوں۔یہ سکیم اس سال مکمل ہو جانی چاہیئے۔۴۔۱۔پانچویں کلاس کے وظیفہ کا امتحان ( جو غالباً ضلعی سطح پر ہوتا ہے ) اس میں اوپر کی ۳۰۰ پوزیشنوں میں ہر ضلع میں جو احمدی بچہ آئے گا اسے میں اپنے دستخط سے دعائیہ خط اور حضرت مسیح موعود کی کوئی کتاب تحفہ کے طور پر اپنے دستخطوں اور دعائیہ فقرہ لکھ کر بھیجوں گا۔ب۔آٹھویں کے وظیفہ کا امتحان جو غالباً ڈویژن کی سطح پر ہوتا ہے۔اس میں ہر ڈویژن میں اُوپر کی ۳۰۰ نشستوں میں جو احمدی طالب علم آئے گا اسے بھی اپنے دستخطوں سے دعائیہ خط اور کتاب تحفہ بھیجوں گا۔ج۔دسویں جماعت کا امتحان ایجوکیشن بورڈ لیتا ہے۔ہر بورڈ کے امتحان میں Top کے ۲۰۰ لڑکوں میں سے جو بھی احمدی طالب علم طالبہ آئے گار آئے گی اس کو اپنے دستخطوں سے خط 278