دینی نصاب — Page 269
مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد میٹرک کا امتحان دیا۔اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہو کر ۱۹۳۴ ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔اگست ۱۹۳۴ء میں آپ کی شادی ہوئی۔۶ رستمبر ۱۹۳۴ ء کو بغرض تعلیم انگلستان کیلئے روانہ ہوئے۔آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے نومبر ۱۹۳۸ ء میں واپس تشریف لائے۔یورپ سے واپسی پر جون ۱۹۳۹ء سے اپریل ۱۹۳۳ ء تک جامعہ احمدیہ کے پر پل رہے۔فروری ۱۹۳۹ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر بنے۔اکتوبر ۱۹۴۹ ء میں جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بنفس نفیس خدام الاحمدیہ کی صدارت کا اعلان فرمایا تو نومبر ۱۹۵۴ ء تک بحیثیت نائب صدر مجلس کے کاموں کو نہایت عمدگی سے چلاتے رہے۔مئی ۱۹۴۴ ء سے لیکر نومبر ۱۹۶۵ ء تک ( یعنی تا انتخاب خلافت ) تعلیم الاسلام کالج کی پرنسپلی کے فرائض سر انجام دیئے۔جون ۱۹۴۸ء سے جون ۱۹۵۰ء تک فرقان بٹالین کشمیر کے محاذ پر داد شجاعت دیتے رہے۔آپ اس بٹالین کی انتظامی کمیٹی کے ممبر تھے۔۱۹۵۳ ء میں پنجاب میں فسادات ہوئے اور مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔تو اس وقت آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔اس طرح سنت یوسفی کے مطابق آپ کو کچھ عرصہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں۔۱۹۵۴ء میں مجلس انصار اللہ کی زمام قیادت آپ کے سپرد کی گئی۔مئی ۱۹۵۵ء میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے آپ کو صدر انجمن احمد یہ کا صدر مقر فرمایا۔کالج کی پرنسلی کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کے کاموں کی نگرانی بھی تا انتخاب خلافت آپ کے سپر درہی۔تقسیم ملک سے قبل باؤنڈری کمیشن کیلئے مواد فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور حفاظت مرکز ( قادیان) کے کام کی براہ راست نگرانی کرتے رہے۔خلافت کا دور حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی نے اپنے عہد خلافت میں ہی آئندہ نئے خلیفہ کے انتخاب کیلئے ایک مجلس مقرر فرما دی تھی جو مجلس انتخاب خلافت کے نام سے موسوم ہے۔269