دینی نصاب — Page 266
ملت کی خدمت میں نمایاں اور قابل قدر حصہ لیا۔آپ کی تنظیمی صلاحیتوں کے پیش نظر مسلمانانِ کشمیر کو آزادی دلانے کے لئے جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوئی تو آپ کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ہر اہم سیاسی مسئلہ کے بارے میں آپ نے مسلمانانِ ہند کی رہنمائی کی اور بیش قیمت مشوروں کے علاوہ دامے درمے ہر طرح ان کی امداد کی۔کئی مرتبہ اپنے سیاسی مشوروں کو کتابی شکل میں شائع کر کے ملک کے تمام سر بر آوردہ اشخاص تک نیز ترجمہ کے ذریعہ ممبران برٹش پارلیمنٹ اور برٹش کیبنٹ تک پہنچایا۔تقسیم ملک کے وقت جہاں آپ نے مسلمانوں کی حفاظت اور بہبود کے لئے مقدور بھر کوششیں کیں وہاں اپنی جماعت کے لئے ۱۹۴۸ ء میں ربوہ جیسے بے آب و گیاہ علاقہ میں ایک فقال مرکز قائم کیا۔جہاں سے الحمدللہ تبلیغ اسلام کی مہم پورے زور سے پروان چڑھ رہی ہے۔ایک بنجر اور شور زدہ علاقہ میں بے سروسامانی کے باوجود ایک پر رونق بستی کا آباد کر دینا خود اپنی ذات میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔یہ بستی نہ صرف تبلیغ اسلام کا اہم ترین مرکز ہے بلکہ ملک میں علم کی ترقی اور ترویج کا بھی ایک ممتاز سنٹر ہے۔اس کے علاوہ کھیلوں کے میدان میں بھی قابل ذکر کردار ادا کر رہی ہے۔و۔آپ نے تاریخ اسلام کے واقعات کو بہتر رنگ میں سمجھنے اور یا درکھنے کے لئے ہجری سشمسی سن جاری فرمایا۔۱۰۔آپ نے متعدد والیان ریاست اور سربراہان مملکت کو تبلیغی خطوط ارسال کئے اور انہیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے روشناس کرایا۔ان میں امیر امان اللہ خاں والی افغانستان، نظام دکن، پرنس آف ویلز اور لا رڈارون وائسرے ہند خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔۱۹۳۹ ء میں خلافت کے پچیس سال پورے ہونے پر سلور جوبلی کی تقریب منعقد ہوئی اور جماعت نے تین لاکھ کی رقم اپنے امام کے حضور تبلیغ اسلام کی توسیع کیلئے پیش کی۔پھر ۱۹۶۴ء میں جب خلافت ثانیہ پر پچاس سال پورے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے حضور اظہار تشکر کے طور پر 266