دینی نصاب — Page 230
نے بڑی استقامت اور جرات و ہمت سے ان کا مقابلہ کیا۔اور ان پر قابو پالیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ قبائل جن کے دلوں میں ابھی اسلام اچھی طرح رچا نہیں تھا مرتد ہو گئے اور پرانی عصبیت ان پر غالب آگئی۔انہوں نے خود مختار رہنا پسند کیا۔اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔بلکہ مدینہ پر حملہ کرنے کی سوچنے لگے۔حضرت ابو بکر نے خطرہ کو دیکھ کر مناسب انتظامات کئے اور منکرین زکوۃ کی اچھی طرح سرکوبی کی۔بعض لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی نبوت کے جھوٹے دعوے کئے۔اسود عنسی مسیلمہ کذاب، طلیحہ بن خویلد اور ایک عورت سجاح زیادہ معروف ہیں۔اسود عنسی تو آنحضرت کی زندگی میں ہی قتل کیا گیا۔باقیوں نے ارتداد کی رو سے فائدہ اُٹھا کر قبائل عرب کو بغاوت پر آمادہ کیا۔حضرت ابو بکر نے سب کو زیر کیا۔مسیلمہ کذاب قتل ہوا۔طلیحہ نے راہ فرار اختیار کی۔یہ حضرت ابوبکر کی ہمت اور استقامت ہی تھی جس کے باعث دُور دراز کے مرتدین کی بھی سرکوبی ہوئی۔اور سارا جزیرہ عرب مسخر ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہو گیا۔اندرونی خلفشار کو دور کرنے کے علاوہ حضرت ابوبکر نے پورے عزم کے ساتھ بیرونی دشمنوں کی طرف توجہ کی اور اس زمانہ کی دو عظیم طاقتوں یعنی کسری شاہ ایران اور قیصر روم سے ٹکر لی۔عراق اور شام کی فتح کی طرف متوجہ ہوئے۔یرموک کے مقام پر رومی سلطنت سے ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی جس نے رومی سلطنت کی تسخیر کے دروازے کھول دئے اور رومیوں کے حوصلے پست کر دیئے۔حضرت ابو بکر کے دور میں جن فتوحات کا آغاز ہوان کی تکمیل خلافت ثانیہ کے دور میں ہوئی۔حضرت ابوبکر" کے عہد خلافت کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے حفاظت قرآن کا بندوبست کیا۔یوں تو جب اور جتنا قرآن کریم نازل ہو تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے لکھوا دیتے۔قرآن کریم کی ہر سورۃ اور اس کا نام اور اس کی ترتیب پھر سارے قرآن کریم کی ترتیب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حکم الہی سے عمل میں آچکی تھی۔230