دینی نصاب — Page 128
یعنی ” جو تم میں سے اُس وقت زندہ ہو اوہ عیسی بن مریم کو پائے گا جو امام مہدی ہونگے اور حکم عدل ہو نگے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کوقتل کریں گے“۔دیکھو اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسی ہی امام مہدی ہونگے مگر تعجب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر ایمان لانے کی وجہ سے آج ہمیں کافر اور مرتد کہا جاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو رڈی کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔افسوس ! صد افسوس!! مندرجہ بالا دلائل سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی ہیں مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ مہدی معہود مسیح موعود سے الگ وجود نہیں ہے تو پھر مسلمان یہ کس طرح ماننے لگ گئے کہ مسیح اور مہدی الگ الگ ہیں؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ عام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح ناصرتی آسمان پر زندہ اُٹھا لئے گئے تھے اور آخری ایام میں پھر زمین پر نازل ہو نگے۔اس کے مقابل میں مہدی کے متعلق یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ وہ امت محمدیہ میں سے ہی پیدا ہوگا۔لہذا جب تک مسلمان اس غلط عقیدہ پر قائم ہیں کہ مسیح ناصری ہی آسمان سے نازل ہو نگے اس وقت تک یہ بالکل ناممکن ہے کہ وہ مسیح اور مہدی کو ایک وجود ما نیں۔ہاں اگر وہ مسیح کے متعلق صحیح عقیدہ پر قائم ہو جائیں اور گذشتہ مسیح ناصری کو وفات شدہ مان لیں تب اُن کیلئے مسیح موعود اور مہدی کو ایک مان لینا نہایت آسان ہو جائے گا۔لیکن زمین سے پیدا ہونے والے اور آسمان سے اتر نے والے کو وہ ایک نہیں مان سکتے۔یہ بات کہ ایک شخص کو دو مختلف نام دینے میں کیا حکمت تھی۔یہ ہم او پر بیان کر آئے ہیں اعادہ کی ضرورت نہیں۔مختصر یہ ہے کہ آنے والے نے مختلف مقاصد کے ماتحت آنا تھا جن میں کسر صلیب اور اصلاح امت محمدیہ دو بڑے مقاصد مدنظر تھے۔پس کا سر صلیب ہونے کے لحاظ سے وہ عیسی مسیح کہلایا اور امت محمدیہ کا مصلح ہونے کی حیثیت میں اس 128