دینی نصاب

by Other Authors

Page 106 of 377

دینی نصاب — Page 106

غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( سورة فاتحہ ) (اے اللہ ) ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا جن پر نہ تو ( بعد میں تیرا ) غضب نازل ہوا ( ہے ) اور نہ وہ ( بعد میں ) گمراہ ( ہو گئے ) ہیں۔استدلال:- اس آیت میں ہمیں دُعا سکھائی گئی ہے کہ ہم انعام یافتہ گروہ کے راستہ پر چلیں اور انعام پائیں قرآن کریم سورۃ نساء آیت ۶۹، ۷۰ میں (جس کی تشریح پہلی آیت میں اوپر آچکی ہے ) اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ انعام پانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں نبوت ، صدیقیت ،شہادت اور صالحیت کے مقام پر سرفراز کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے :- وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا - ( سورة المائدة : ۲۱) اور تم اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم! تم اللہ کے اس انعام کو یاد کرو جب اس نے تم میں نبی مقرر کئے تھے اور تمہیں بادشاہ بنایا تھا۔اس آیت میں نبوت کو اور بادشاہت کو انعام قرار دیا ہے۔ان دونوں آیتوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں خود یہ دعا سکھائی ہے تو دراصل اس میں اس بات کی بشارت دی ہے کہ وہ ہم میں بھی نبوت اور بادشاہت کا انعام جاری رکھے گا۔امت مسلمہ کو خیر امت قرار دیا گیا ہے۔وہ خیر امت اسی طرح ہو سکتی ہے کہ اس میں بھی سلسلہ نبوت جاری رہے جیسے اس سے قبل دوسری امتوں میں جاری تھا۔اگر اس انعام کا دروازہ 106