دینی معلومات — Page 17
سوال: آپ کی پہلی وحی پر حضرت خدیجہ کا کیا رد عمل تھا؟ جواب: جب حضور صلی یہ کم غار حرا سے لوٹے تو آپ نے گھبراہٹ کے عالم میں حضرت کو سارا واقعہ سنایا اور فرمایا کہ مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے مگر خديجة حضرت خدیجہ نے آپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: كَلاً وَاللهِ مَا يُخْزِيْكَ اللهُ أَبَداً إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحق۔( صحیح بخاری باب بدء الوحی) ترجمہ: نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔خدا کی قسم ! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں اور لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں اور معدوم اخلاق اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہیں آپ مہمان نوازی کرتے ہیں اور تمام حوادث میں حق و صداقت کا ساتھ دیتے ہیں۔سوال: مردوں، عورتوں، بچوں، غلاموں، بادشاہوں، عیسائیوں، فارسیوں اور رومیوں میں سے سب سے پہلے کون کون آپ پر ایمان لائے؟ جواب: مردوں میں سے حضرت ابو بکر، عورتوں میں سے حضرت خدیجتہ الکبری، بچوں میں سے حضرت علی، غلاموں میں سے حضرت زید بن حارثہ ، بادشاہوں میں سے اصحمہ نجاشی شاہ حبشہ ، فارسیوں میں سے حضرت سلمان فارسی، رومیوں میں سے حضرت صہیب رومی سب سے پہلے مسلمان ہوئے۔17