دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 62

معتدبہ حصے ایسی تحریروں پر مشتمل ہیں جو براہِ راست رسولوں کی طرف سے نہیں ہیں۔(ک) Yest, as a matter of fact,evrey book in the NT with the exception of the four great epistles of St۔paul is at present more or less the subject of controversy, and ۷۹؎ interpolations are assented even in these۔پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ عہد نامہ جدید کی ہر کتاب سوائے پولوس رسول کے چار عظیم الشان خطوط کے کم و بیش مابہ النزاع ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں بھی دخل اندازی کی گئی ہے اور زیادتیاں ہوئی ہیں۔پھر پُرانے زمانہ کی تحریف و تبدل کو تو جانے دو لطف یہ ہے کہ انجیل میں آج تک بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔چنانچہ:۔۱۔یوحنا باب ۵ آیت ۲ تا ۵ لکھا تھا :۔(۱) یروشلم میں بھیڑدروازہ کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیت حسدا کہلاتاہے۔اُس کے پانچ اُسارے ہیں۔ان میں ناتوانوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور پژ مردوں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی تھی جو پانی کے ہلنے کے منتظر تھے۔کیونکہ ایک فرشتہ بعضے وقت اُس حوض میں اُترکے پانی کوہلاتا تھا اور پانی کے ہلنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اُترتا کیسی ہی بیماری میں گرفتار ہو اُس سے چنگا ہو جاتا تھا۔یہ واقعہ سینکڑوں سال سے انجیل میں لکھا جارہا تھا اور کسی مسیحی کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہوا تھا کہ یہ واقعہ کسی اَور نے انجیل میں داخل کردیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے جب عیسائیت پر یہ اعتراض کیا کہ اگر فلسطین میں ایک ایساحوض موجود تھا جس میں گرنے سے لوگوں کو شفاء ہو جاتی تھی تو گو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس میں کسی خاص تاریخ میں گرنے سے شفاء ہوتی ہے مگرمسیحؑ نے سمجھ لیا کہ یہ وہم ہے۔اور اصل بات یہ ہے کہ اس پانی میں نہانے سے شفاء ہوتی ہے۔پس مسیحؑ نے اس کا پانی مریضوں کو استعمال کرانا شروع کر دیاجس سے اُن کو شفاء ہو نی شروع ہو گئی اور لوگ ان کے معجزات کے قائل ہو گئے۔چنانچہ