دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 43

بیٹا اخزیاہ جب اپنے باپ کی وفات پر تخت پر بیٹھا تو اُس کی عمر بھی ۴۲ سال کی تھی۔گویا وہ اپنے باپ کا ہم عمر تھا اور اس کے بڑے بھائی جن کو عربوں نے یہورام کے خلاف لڑائی میں مار دیا تھا وہ سب اپنے باپ سے بڑے تھے۔کیا کوئی معقول انسان اس قسم کی لغو باتوں کو تسلیم کر سکتا ہے؟ بیالیس سال کی عمر میں باپ مارا جاتا ہے اور اُس کا سب سے چھوٹا بیٹا اُسی عمر کا اس کے بعد بادشاہ بن جاتا ہے!! یہ باتیں تو ایسی ہیں کہ کسی کمزور سے کمزور عقل والے انسان کی کتاب میں بھی نہیں پائی جاتیں کجا یہ کہ خدا کی نازل کردہ کتاب میں پائی جائیں۔صاف ظاہر ہے کہ خدا کے الہام میں یہ باتیں نہ تھیں۔نبیوں کے کلام میں یہ باتیں نہ تھیں۔کسی ایک آدمی نے بھی یہ باتیں نہیں لکھیں۔بلکہ کئی آدمیوں نے اپنے اپنے خیالات لکھ دئیے ہیں۔کسی یہودی مؤرخ کا یہ خیال تھا کہ یہورام بیالیس سال کی عمر میں فوت ہوا اور اُس نے یہ بات لکھ دی۔کسی دوسرے یہودی مؤرخ کا یہ خیال تھا کہ یہورام جب مرا اُس کی عمر سَو سال تھی اور اُس وقت سب سے چھوٹا بیٹا بیالیس سال کا تھا اُس نے یہ بات درج کردی کہ جب یہورام کا بیٹا تخت پر بیٹھا تو بیالیس سا ل کا تھا۔اب یہ باتیں بظاہر متضاد نظر آتی ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس نے یہورام کو ۴۲ سا ل میں مارا ہے اُس کے خیال میں اخزیاہ کی عمر تخت نشینی کے وقت بیالیس نہیں تھی بلکہ شاید ۱۴،۱۵ سال ہو۔اور جس شخص نے یہ لکھ دیا کہ اخزیاہ کی عمر تخت نشینی کے وقت ۴۲ سال تھی اُس کی تحقیق میں یہورام کی عمر اُس کی وفات کے وقت ۴۲ سال یقینا نہیں تھی لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایسی کتاب انسان کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے اور وہ کس طرح یقین اور ایمان کے ساتھ اس کے مطالب پر غور کر سکتا ہے۔اگر تو یہ کہا جاتا کہ تورات مجموعہ ہے لاکھوں یہودیوں کی تحقیقاتوں کا تو پھر بھی اِس کتاب کی کچھ قیمت باقی رہ جاتی۔لیکن ایک طرف تو اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والاکلام کہا جاتا ہے اور دوسری طرف وہ ہزاروں ہزار افراد کی تحقیقاتوں کا مجموعہ نظر آتا ہے اور اس طرح ایک غلط نام دے دینے کی وجہ سے تھوڑی بہت عظمت جو اِسے حاصل ہو سکتی تھی وہ بھی جاتی رہی ہے۔بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ ایسی کتاب دنیا کی راہنمائی کا موجب ہو سکتی ہے اورکون کہہ سکتا ہے کہ اس کتاب کے بعد کسی اور کتاب کے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔