دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 42

زور سے نازل ہوتی رہی۔پھر سموئیل اُٹھ کر رامہ کو چلا گیا‘‘۔مگر نمبر ۱ تواریخ باب ۲ آیت ۱۳ تا ۱۵ میں لکھا ہے کہ دائود یسی کا ساتواں بیٹا تھا۔چنانچہ لکھا ہے:۔’’ اور یسی سے اُس کا پلوٹھا الیاب پیدا ہوا اور ابینداب دوسرا اور سمع تیسرا، نینیتل چوتھا، ردی پانچواں، عوضم چھٹا ،دائود ساتواں ‘‘۔یہ اختلاف بتاتا ہے کہ بائبل میں مختلف مؤرخوں نے اپنے اپنے خیالات داخل کر دئیے ہیں اور یہ موجودہ حالت میں محفوظ آسمانی کتاب نہیں کہلا سکتی۔۶۔نمبر ۲ سموئیل باب ۶ آیت ۲۳ میں لکھا ہے:۔’’ سو سائول کی بیٹی میکل مرتے دم تک بے اولاد رہی۔‘‘ مگر نمبر ۲ سموئیل باب ۲۱ آیت ۸ میں لکھا ہے:۔’’ اور سائول کی بیٹی میکل کے پانچوں بیٹوں کو جو برزلی محولاتی کے بیٹے عدری ایل سے ہوئے تھے لے کر ان کو جبعونیوں کے حوالے کیا‘‘۔ایک ہی کتاب میں ایک ہی جگہ اُسے بانجھ قرار دیا گیا ہے اور اُسی کتاب میںد وسری جگہ اس کے پانچ بیٹے قرار دئیے گئے ہیں۔۷۔نمبر ۲ تواریخ باب ۲۱ آیت ۱۹،۲۰ میں لکھا ہے کہ یہورام بادشاہ ۳۲ سال کی عمر میں بادشاہ ہوا اور آٹھ برس اُس نے بادشاہت کی اور پھر دو سال بادشاہت سے معزول ہو کرایک سخت بیماری کے اثر سے وفات پا گیا۔گویا اس کی عمر ۴۲ سال کی تھی۔لیکن اِسی کتاب کے باب ۲۲ آیت ۱،۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم کے باشندوں نے یہورام کے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنایاکیونکہ اُس انبوہ نے جو عربوں کے ساتھ چھائونی میں آیا تھا سب بڑے بیٹوں کو قتل کیا تھا سو اخزیاہ بن یہورام یہوواہ کا بادشاہ ہوا۔اخزیاہ بیالیس برس کی عمر میں بادشاہ ہوا۔چونکہ اوپر کے حوالہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہورام کی عمر اُس کی وفات کے وقت ۴۲ سال کی تھی اس لئے اس دوسرے حوالے کی بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہورام بادشاہ کا سب سے چھوٹا