دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 486

اُس وقت صرف پچیس سال کی عمر کا تھا اور تمام مادی ذرائع سے محروم تھا۔جماعت کی باگ ڈورکلی طور پر ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی جنہوں نے خلافت کے اصول کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا، لیکن قادیان کی موجودہ جماعت کی کثرت جنہیں یہ باغی لوگ جاہلوں کی کثرت کہتے تھے اِس بات پر مصر تھی کہ ہم خلافت کے طریق کو قرآنیِ احکام کے مطابق جاری رکھیںگے۔چنانچہ ان لوگوں کے اصرار پر میں نے جماعت احمدیہ سے بیعت لے لی اور خلیفہ ثانی کے طور پر جماعت کی، اسلام کی اور دنیا کی خدمت کا کام کرنا شروع کیا۔چونکہ جماعت کے سربرآوردہ اور بڑے لوگ مخالف ہوگئے تھے اس لئے جماعت کی حالت اُس وقت بہت خطرناک نظر آتی تھی اور بیرونی دنیا کی نظریں بھی اب اس امید سے اُٹھ رہی تھیں کہ چند دن میں اِس سلسلہ کی عمارت پاش پاش ہو جائے گی مگر اُس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ وہ میری مدد کرے گا اور مجھے غلبہ دے گا اور میرے مخالفو ں کو جو طاقتور ہیں کمزور کرے گا اور اُن میں تفرقہ پید ا کر کے اُنہیں پاش پاش کر دے گا۔احمدیہ جماعت میں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ تجربہ کار آدمی نکل گئے۔احمدیہ جماعت میں سے زیادہ مالدار اور زیادہ رسوخ والے آد می الگ ہوگئے۔وہ لوگ جو سلسلہ کا دماغ سمجھے جاتے تھے وہ اس سے کٹ گئے۔میری عمر کے لحاظ سے خلافت سے بغاوت کرنے والا گروہ یہ آوازیں بلند کرتا تھا کہ سلسلہ کی باگ ڈور ایک بچہ کے ہاتھ میں چلی گئی ہے اب یہ سلسلہ تباہ ہو کر رہے گا۔حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے مطابق مصلح موعود کا ظہور لیکن وہ خدا کہ جس نے قرآن شریف نازل کیا ہے، وہ خدا کہ جس نے اِس دنیا کے لئے ایک روحانی نظام بنایا ہے جس کے ماتحت یہ دنیا ترقی کر رہی ہے۔وہ خدا جس نے احمد علیہ السلام مسیح موعود مہدی معہود کو بتایا تھا کہ وہ ان کی ذریت سے ۱۸۸۶ء سے لے کر ۹ سال کے اندر ایک لڑکا پیدا کرے گا جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے جلد جلد ترقی کرے گا اور دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اسلام کو دنیا میں پھیلا کر اسیروں کی رستگاری اور مردوں کے احیاء کا موجب ہوگا۔اس کی بات پوری ہوئی اور اُس کا کلمہ اُونچا رہا۔ہر روز جو طلوع ہوتا تھا وہ میری کامیابی کے سامانوں کو ساتھ لاتا تھا، ہر روز جو