دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 485

اکیلے تھے، دنیا میں آپ کا کوئی ساتھی نہیں تھا۔آپ ریل سے دور، تار گھر سے محروم، ڈاک کی تمام سہولتوں سے محروم ایک چھوٹے سے گائوں میں جس کی آ بادی چودہ پندرہ سَو تھی ظاہر ہوئے اور اُس وقت آپ نے دنیا میں یہ اعلان فرمایا کہ خدا تعالیٰ میری سچائی کو دنیا پر ثابت کرے گا اور دنیا کے دور دراز کناروں تک میری تبلیغ پہنچے گی اور آپ نے یہ اعلان کیا کہ نہ صرف یہ کہ خدا مجھے دنیا کے کناروں تک شہرت دے گا بلکہ میرے سلسلہ کو قائم رکھے گا اورمجھ پر ایمان لانے والے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے۔اور ۹ سال کے اندر میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا، جو خصوصیت سے میری پیشگوئیوں کو پورا کرنے والا ہو گا اور دنیا کے کناروں تک اُس کا نام پہنچے گا۔وہ جلد جلد ترقی کرے گا اور روح القدس سے برکت دیا جائے گا۔اِن الہامات کے شائع ہونے کے بعد آپ کی مخالفت بڑے زور شور سے ہوئی اور کیا ہندو اور کیا مسلمان اور کیا عیسائی اور کیا سکھ سب کے سب آپ کے پیچھے پڑ گئے اور ہر ایک نے آپ کے تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔یہ مخالفت ہی اپنی ذات میں اس بات کی علامت تھی کہ بانی سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکہ اس قسم کی عالمگیر مخالفت بِالعموم سچے نبیوں کی ہی ہو اکرتی ہے، مگر باوجود اس کے کہ آپ اکیلے تھے اور آپ کے مقابلہ میں ساری دنیا جمع تھی پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی آواز کو بلند کرنا شروع کیا اور ایک ایک دو دو کر کے لوگ آپ پر ایمان لانے شروع ہوئے اور بڑھتے بڑھتے یہ جماعت پنجاب اور ہندوستان میں پھیلتی ہوئی دوسرے ممالک کی طرف نکل گئی۔جب بانی سلسلہ احمدیہ سن ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے تو اُس وقت آپ کے مخالفوں نے یہ شور مچایا کہ اب یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا، لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی جماعت کو حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ پر جمع ہونے کا موقع دے دیا اور وہ اس جماعت کے اسلامی اصول کے مطابق پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ کی خلافت کے دوران میں مغربی تعلیم سے متأثر لوگوں نے اصولِ خلافت پر اعتراضات کرنے شروع کئے اور فتنہ یہ بڑھنا شروع ہوا۔حتی کہ جب ۱۹۱۴ء میں آپ فوت ہوئے تو اِن لوگوں نے جو کہ خلافت کے مسئلہ کے خلاف تھے نظامِ سلسلہ کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی۔راقم الحروف جو بانی سلسلہ احمدیہ حضرت احمد علیہ السلام کا بیٹا ہے