دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 481

۳) انسان چونکہ روحانی ترقی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے ایک حد تک اُس کو اپنے عمل میں ایک حد تک آزادی بھی ملنی چاہئے اور اسے ترقی کے لئے کچھ نہ کچھ میدان ملنا چاہئے۔(۴)چونکہ انسان جن ذرائع سے کام لے کر ترقی کرے گا وہ ذرائع درحقیقت کل بنی نوع انسان کی مشترک ملکیت ہیں اس لئے انسانی عمل کے محاصل کو ایسے اصول پر تقیسم کرنا چاہئے کہ فرد کو بھی اُس کا حق مل جائے اور قوم کو بھی اس کا حق مل جائے۔(۵) انسانی نظا مِ تمدن کے چلانے کے لئے ایک حاکم ہونا ضروری ہے اور اس حاکم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے مشورہ سے منتخب کیا جائے اس حاکم کا کام قانون بنانا نہیں بلکہ الٰہی قانون کو نافذ کرنا ہے۔(۶) لیکن چونکہ ضروری نہیں کہ ایک وقت میں ساری دنیا میں ایک ہی نظام ہو اس لئے قرآن کریم نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ :۔(الف) اگر ایک وقت میں دنیا میں کئی حکومتیں ہوں اور اُن میں سے بعض میں اختلاف پیدا ہو جائے تو دوسری حکومتیں مل کر اُن دونوں کے اندر صلح کرائیں۔(ب)اگر صلح ہو جائے تو فَبِہَا اور اگر صلح نہ ہو سکے تو دنیا کی باقی حکومتیں مل کر ایک عادلانہ فیصلہ دیں جس کو ماننے کے لئے دونوں حکومتوں کو مجبو رکیا جائے۔(ج) اگر ایسے فیصلہ کو کوئی فریق نہ مانے یا ماننے کے بعد اس پر عمل کرنے سے انکار کر دے تو ساری طاقتیں مل کر اس سے لڑیں اور اُسے مجبور کریں کہ وہ دنیا کے امن کی خاطر حکومتوں کی پنچائت کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔(د) جب اس پنچائتی دبائو یا لڑائی سے وہ حکومت صلح کی طرف مائل ہو جائے تو یہ حکومتوں کی پنچائت بغیر کوئی ذاتی فائدہ اُٹھانے کے صرف اس امر کے متعلق فیصلہ نافذ کر دے جس سے جھگڑے کی ابتداء ہوئی تھی اور مغلوب ہونے والی حکومت سے کوئی زائد فائدے اپنے لئے حاصل نہ کرے کیونکہ اس سے نئے فسادات کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں۔یہ وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم نے آج سے پونے چودہ سَو سال پہلے دی تھی آج یو نائٹیڈ نیشنز آرگنائزیشن U