دیباچہ تفسیر القرآن — Page 472
اللہ تعالیٰ کے لشکروں سے خدا ہی واقف ہے دوسرا کوئی واقف نہیں لیکن انسان کو ایک عزت اور رُتبہ کا مقام حاصل ہے اس لئے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لئے بمنزلہ آئینہ ہے اسی لئے مسلمان صوفیاء اس کو عالَم صغیر کہتے ہیں یعنی تمام مخلوقات کی صفات انسان کے اندر جمع ہو گئی ہیں اور انسان کو ہم ساری دنیا کا قائمقام کہہ سکتے ہیں۔جس طرح ایک نقشہ چھوٹے سے کاغذ پر ہوتا ہے لیکن وہ ملک کی تمام کیفیات کو ظاہر کر دیتا ہے اسی طرح انسان گو ایک چھوٹا سا جسم رکھتا ہے مگر وہ تمام عالَم کی مختلف حقیقتیں اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ دنیا کا محور اور مرکز انسان ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ انسان دنیا کی ہر مخلوق پر حکومت کر رہا ہے اور کوئی مخلوق اس پر حکومت نہیں کر رہی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آب وہوا کی تبدیلیاں، ستاروں کی روشنیاں، بجلیاںاور بیماریاں اسی طرح طوفان اور بارشیں انسان پر ضرور اثر کرتی ہیں مگر اثر اور حکومت میں فرق ہوتا ہے۔حاکم بھی اپنے محکوم سے متأثر ہوتے ہیں۔دنیا میںکوئی ایسا حاکم ہمیں نظر نہیں آتا جو اپنے محکوم سے متأثر نہ ہو، مگر باوجود اس کے حاکم اور محکوم کے پہچاننے میںکوئی مشکل پیش نہیں آتی۔اسی طرح گو انسان دوسری چیزوں سے متأثر ہوتا ہے، لیکن ان چیزوں پر حکومت اور قبضہ انسان ہی کا ہوتا ہے۔دریائوں، سمندروں، پہاڑوں، ہوائوں، دوائوں، بارشوں اور بجلیوں وغیرہ پر حاکمانہ اقتدار انسان کا ہی ہے اور اس طرح وہ تمام مخلوق کا نقطہ مرکزی ہے ، یا یوں کہہ لو کہ اس تمام مخلوق کا جو ہماری دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے کیونکہ عالَم کی وسعت اتنی بڑی ہے کہ ہم اس کے متعلق کوئی عام فتویٰ لگانے کا حق نہیں رکھتے۔انسان کی پیدائش اور اس کی دماغی ترقی تدریجی طور پر ہوئی انسان کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم سے ظاہر ہوتا ہے کہ تورات و انجیل کے دعوئوں کے برخلاف انسان کی پیدائش تدریجی طور پر ہوئی ہے۔ایک آیت تو میں پہلے’’ قرآنی تعلیم کے اصول‘‘ کے زیر عنوان لکھ چکا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم انسا ن کی پیدائش کو تدریجی قرار دیتا ہے۔اس جگہ ایک اور آیت بیان کرتا ہوں جس سے پتہ لگتا ہے کہ انسان کی پیدائش اس طرح نہیں ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے مٹی سے ایک