دیباچہ تفسیر القرآن — Page 424
بلکہ بچا لی گئی تھی اُسے حنوط کیا گیا تھا اور وہ محفوظ کر دی گئی تھی۔ہو سکتا تھا کہ حنوط کرنے کے باوجود اُن بہت سے تغیرات کی وجہ سے جو مصر میں ہوئے فرعونِ موسیٰ کی لاش ضائع ہو جاتی۔مگر اُس کی لاش محفوظ رہی اور اِس وقت دنیا کے سامنے عبرت کا نمونہ پیش کر رہی ہے اور قرآن کریم کی سچائی پر گواہی دے رہی ہے۔(۲) پھر قرآن کریم کے شروع نزول میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۵۴۵؎ ہم رات کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ڈھانپ لے گی یعنی اِسلام پر نہایت ہی شدید مصائب نازل ہوں گے۔یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی تھی جبکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ اُمید نہیں تھی کہ میری قوم مجھ سے دشمنی کرے گی کیو نکہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی بیوی کے رشتہ دار ورقہ بن نوفل نے کہا کہ تم پر وہی فرشتہ الہام لے کر نازل ہوا ہے جو موسیٰ کی طرف نازل ہو ا تھا اور یہ کہ تمہاری قوم تمہیں دکھ دے گی اور تمہیں اپنے وطن سے نکال دے گی۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حیرت سے اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میری قوم مجھے کس طرح نکال دے گی۵۴۶؎ یعنی جو اچھے تعلقات میرے اپنی قوم سے ہیں اِن کے نتیجہ یں وہ میری مخالف نہیں ہوسکتی۔مگر اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیا کہ اِسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک سخت تاریک رات آنے والی ہے۔چنانچہ وہ رات آئی اور قریباً دس سال تک رہی۔اِن دس سالوں کی خبر بھی قرآن کریم نے دوسری جگہ بتا دی تھی۔(۳) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۵۴۷؎ ہم صبح کے طلوع کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اُن دس راتوں کوشہادت کے طورپر پیش کرتے ہیں جو اس طلوع فجر سے پہلے آئیں گی۔میوراور دوسرے یورپین مصنف تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے تیسرے سال کے قریباً آخر میں نازل ہوئی ہے اُس وقت تک ابھی مکہ کے لوگوں کی مخالفتیں تیز نہیں ہوئی تھیں اُس وقت قرآن کریم نے یہ خبر دے دی تھی کہ تم پر تاریکی کی دس راتیں آئیں گی اور جیسا کہ الہامی کلام کے محاورہ سے ثابت ہے دس راتوں سے مراد دس سال ہوتے ہیں اور بائبل میں یہ محاورہ بڑی کثرت سے استعمال ہوا ہے۔بائبل میں بِالعموم دن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن قرآن کریم میں مصیبت کی گھڑیوں کو رات کے لفظ