دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 414

لمبی ہے۔اِس لڑائی میں پانچ سَو قاری صحابی شہید ہوئے۔اِن واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی قرآن کریم لکھا بھی جاتا تھا، حفظ بھی کیا جاتا تھا اور ہزاروں آدمی قرآن شریف کو شروع سے لے کر آخر تک یاد رکھتے تھے۔ایک جلد میں قرآن مجید کا جمع کرنا جو بات اس وقت تک نہ ہوئی تھی، وہ صرف یہ تھی کہ ایک جلد میں قرآن شریف جمع نہیں ہوا تھا۔جب یہ پانچ سَو قرآن کا حافظ اس لڑائی میں مارا گیا۔تو حضرت عمرؓ حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے اور اُنہیں جا کے کہا کہ ایک لڑائی میں پانچ سَو حافظ قرآن شہید ہوا ہے اور ابھی تو بہت سی لڑائیاں ہمارے سامنے ہیں۔اگر اور حفاظ بھی شہید ہو گئے تو لوگوں کو قرآن کریم کے متعلق شبہ پیدا ہو جائے گا اس لئے قرآن کو ایک جلد میں جمع کر دینا چاہئے۔حضرت ابوبکرؓ نے پہلے تو اس بات سے انکار کیا لیکن آخر آپ کی بات مان لی۔حضرت ابوبکرؓ نے زید بن ثابتؓ کو اِس کام کے لئے مقرر کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن کریم لکھا کرتے تھے اور کبار صحابہؓ ان کی مدد کے لیے مقرر کیے۔گو ہزاروں صحابہؓ قرآن شریف کے حافظ تھے لیکن قرآن شریف کے لکھتے وقت ہزاروں صحابہؓ کو جمع کرنا تو ناممکن تھا اِس لئے حضرت ابوبکرؓ نے حکم دے دیا کہ قرآن کریم کو تحریری نسخوں سے نقل کیا جائے اور ساتھ ہی یہ احتیاط کی جائے کہ کم سے کم دو حافظ قرآن کے اور بھی اس کی تصدیق کرنے والے ہوں۔چنانچہ متفرق چمڑوں اور ہڈیوں پر جو قرآن شریف لکھا ہوا تھا وہ ایک جگہ پر جمع کر دیا گیا اور قرآن شریف کے حافظوں نے اس کی تصدیق کی۔اگر قرآن شریف کے متعلق کوئی شبہ ہو سکتا ہے تو محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور اس وقت کے درمیانی عرصہ کے متعلق ہو سکتا ہے مگر کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ جو کتاب روازنہ پڑھی جاتی تھی اور جو کتاب ہر رمضان میں اُونچی آواز سے پڑھ کر دوسرے مسلمانوں کو حفاظ سناتے تھے اور جس ساری کی ساری کتاب کو ہزاروں آدمیوں نے شروع سے لے کرآخر تک حفظ کیا ہوا تھا اور جو کتاب گو ایک جلد میں اکٹھی نہیں کی گئی تھی، لیکن بیسیوں صحابہؓ اس کو لکھا کرتے تھے اور ٹکڑوں کی صورت میں لکھی ہوئی وہ ساری کی ساری موجود تھی اُسے ایک جلد میں جمع کرنے میں کسی کو دِقت محسوس ہو سکتی تھی۔اور پھر کیاایسے شخص کو دقت ہو سکتی تھی جو خود