دیباچہ تفسیر القرآن — Page 382
چلی گئی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس غریب کے گھر میں بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے۔خدا تعالیٰ اُسے قیامت کے دن عذابِ دوزخ سے بچائے گا۔پھر فرمایا۔اللہ تعالیٰ اُس عورت کو اِس فعل کی وجہ سے جنت کا مستحق بنائے گا۔۴۶۰؎ اسی طرح ایک دفعہ آپ کو معلوم ہو اکہ آپ کے ایک صحابی سعدؓ جو مالدار تھے وہ بعض دوسرے لوگوں پر اپنی فضلیت ظاہر کر رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ قوت اور طاقت اور تمہارا یہ مال تمہیں اپنے زور ِبازو سے ملے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں تمہاری قومی طاقت اور تمہارے مال سب غرباء ہی کے ذریعہ سے آتے ہیں۔۴۶۱؎ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْ ِنیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنِ یَومَ الْقِیَامَۃِ ۴۶۲؎ یعنی اے اللہ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھ، مسکین ہونے کی حالت میں وفات دے اور مساکین کے زُمرہ میں ہی قیامت کے دن مجھے اُٹھا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جارہے تھے تو آپ کے ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر نہایت بد صورت بھی تھے گرمی کے موسم میں بوجھ اُٹھا اُٹھا کر ایک طرف سے دوسری طرف منتقل کر رہے تھے۔ایک طرف اُ ن کا چہرہ بد صورت تھا تو دوسری طرف گرد و غبار اور پسینہ کی وجہ سے وہ اور بھی بد نما نظر آرہا تھا۔عین اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے اور آپ نے اُن کے چہرہ پر افسردگی کی علامتیں دیکھیں۔آپ خاموشی سے اُن کے پیچھے چلے گئے اور جیسے بچے آپس میں کھیلتے وقت چوری چھپے پیچھے سے جا کر کسی دوست کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتے اور پھر یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اندازہ لگا کر بتائے کہ کس شخص نے اُس کی آنکھیں بند کی ہیں اِسی طرح آپ نے اُن کی آنکھوں پرجا کر ہاتھ رکھ دیا۔اس نے اپنے ہاتھ سے آپ کے بازو اور جسم کو ٹٹولنا شروع کیا اور سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔یوں بھی وہ سمجھتا تھا کہ اتنے غریب، اتنے بدصورت اور اتنے بدحال