دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 379

کے ہاتھوں کی رسیاں کھول دیں اور رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہو گئی تو آپ نے فرمایا جیسے میرے رشتہ دار ویسے ہی دوسروں کے رشتہ دار۔یا تو میرے چچا عباسؓ کو بھی پھر رسیوں سے باندھ دو یا سارے قیدیوں کی رسیاں کھول دو۔صحابہ کو چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا احساس تھا اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم پہرہ سختی سے دے لیں گے لیکن سب قیدیوں کی رسیاں ہم کھول دیتے ہیں، چنانچہ سب قیدیوں کی رسیاں اُنہوں نے کھول دیں۔آپ انصاف کا خیال جنگ کے موقع پر بھی رکھتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے کچھ صحابہؓ کو باہر خبر رسانی کے لئے بجھوایا۔دشمن کے کچھ آدمی اُن کو حرم کی حد میں مل گئے صحابہ نے اِس خیال سے کہ اگر ہم نے ان کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ جا کر مکہ والوں کو خبر دیں گے اور ہم مارے جائیں گے اُن پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک لڑائی میں مارا گیا۔جب یہ خبریںدریافت کرنے والا قافلہ مدینہ واپس آیا، تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آیا کہ اُنہوں نے حرم کے اندر ہمارے دو آدمی مار دیئے ہیں۔جو لوگ حرم کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرتے رہتے تھے اُن کو جواب تو یہ ملنا چاہئے تھا کہ تم نے کب حرم کا احترام کیا کہ تم ہم سے حرم کے احترام کی امید رکھتے ہو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب نہ دیا بلکہ فرمایا۔ہاں بے انصافی ہوئی ہے کیو نکہ ممکن ہے کہ اس خیال سے کہ حرم میں وہ محفوظ ہیں اُنہوں نے اپنے بچائو کی پوری کوشش نہ کی ہو اس لئے آپ لوگوںکو خون بہاد یا جائے گا۔چنانچہ آپ نے قتل کا وہ فدیہ جس کا عربوں میں دستور تھا اُن کے ورثا ء کو ادا کیا۔جذبات کا احترام اپنے تو اپنے غیروں کے جذبات کا احترام بھی آپ بہت زیادہ کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک یہودی آپ کے پاس آیا اور اُس نے آکے شکایت کی کہ دیکھئے! حضرت ابوبکرؓ نے میرا دل دُکھایا ہے اور کہا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔اِس بات کو سن کر میرے دل کو تکلیف پہنچی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکرؓ کو بلا کر اُن سے پوچھا کہ یہ کیا با ت ہے۔حضرت ابوبکرؓ نے کہا، یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اِس شخص نے ابتداء کی تھی اور کہا تھا کہ میں موسیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے ساری دنیا پر فضلیت عطا فرمائی ہے اس پر