دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 373

ہوں تو آپ نے ان دونوں راستوں میں سے جو آسان رستہ ہو اُسے اختیار نہ کیا ہو بشرطیکہ اُس آسان راستہ کے اختیار کرنے میں کوئی گناہ کا شائبہ نہ پایا جائے۔اگر گناہ کا کوئی شائبہ پایا جاتا تو آپ اس راستہ سے تمام انسانوں سے زیادہ دور بھاگتے تھے۔یہ کیسا لطیف اور کیسا اعلیٰ درجہ کا چلن ہے دنیا کو دھوکا دینے کے لئے لوگ کس طرح بِلاوجہ اپنے آپ کو دُکھوں اور تکلیفوں میں ڈالتے ہیں۔ان کا اپنے آپ کو دُکھوں اور تکلیفوں میں ڈالنا خدا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کے لئے کوئی بے فائدہ کام نہیں کیا جاتا۔اُن کا اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالنا لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ہوتا ہے۔اُن کی اصل نیکی چونکہ بہت کم ہوتی ہے وہ جھوٹی نیکیوں سے لوگوں کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں اور اپنے عیبوں کو چھپانے کے لئے لوگوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود تو خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور حقیقی نیکی کا حصول تھا۔آپ کو ایسی تصنع اور بناوٹی نیکیوں کی کیا ضرورت تھی۔اگر دنیا آپ کو نیک سمجھتی تو بھی اور اگر آپ کو نیک نہ سمجھتی تو بھی آپ کے لئے ایک سی بات تھی۔آپ تو صرف یہ دیکھتے تھے کہ میرا خدا مجھے کیا سمجھتا ہے اور میرا اپنا نفس مجھے کیسا پاتا ہے۔خدا اور اپنے نفس کی شہادت کے بعد اگر بنی نوع انسان بھی سچی شہادت دیتے تو آپ اُن کے شکر گزار ہوتے تھے اور اگر وہ کج آنکھوں سے دیکھتے تو آپ اُن کی بینائی کی کمی پر افسوس کرتے مگر اُن کی رائے کو کوئی وقعت نہ دیتے تھے۔رسول کریم ﷺکا بنی نوع انسان سے معاملہ بیویوں کے حق میں آپ کا معاملہ نہایت ہی مشفقانہ اور عادلانہ تھا۔بعض دفعہ آپ کی بیویاں آپ سے سختی بھی کر لیتی تھیں مگر آپ خاموشی سے بات کو ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ایک دن آپ نے حضرت عائشہؓ سے کہا اے عائشہ! جب تم مجھ سے خفا ہوتی ہو تو مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ تم مجھ سے خفا ہو۔حضرت عائشہؓ نے فرمایا آپ کو کس طرح پتہ لگ جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کوئی قسم کھانے کا معاملہ آ جائے تو تم ہمیشہ یوں کہتی ہو ’’محمد کے ربّ کی قسم! بات یوں ہے‘‘ اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور تمہیں قسم کھانے کی ضرورت پیش آ جائے تو تم کہا کرتی ہو ’’ابراہیم کے ربّ کی قسم!