دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 25

مختلف فلسفوں نے انسانی دماغ کو خاص خاص راستوں پر چلایا ہے اور اس کے نتیجہ میں افکار نے جو صورت اختیار کی ہے وہ اخلاق اور آرٹ کی نقل میں ایسی مخصوص نو عیتیں اختیار کر گئی ہے کہ دیکھنے والا مختلف مذاہب کے سچے پیروئوں کے اصولِ اخلاق اور آرٹ کے ظہور کو جدا جدا صورتوں میں دیکھتا ہے اور یہی چیز کلچر ہے۔مختلف کلچر بھی قوموں میں اختلاف کاموجب ہیں کلچر بھی قوموں میں اختلاف کرنے کا موجب ہوتی ہے۔آج دنیا میںدہریت غالب ہے۔آج دنیا میں وُسعت خیالی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔مگر باوجود اس کے ایک عیسائی کہلانے والے دہریہ اور ایک متعصب عیسائی میں جس سہولت کے ساتھ جوڑ اور اتفاق ہو جاتا ہے اس سہولت کے ساتھ اس عیسائی کہلانے والے دہریہ کامسلمان کہلانے والے دہریہ سییا ایک متعصب عیسائی کا ایک متعصب مسلمان سے اتفاق نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ زمانہ کے اختلاف میں پولیٹیکل خیالات کا بھی جو کہ تمدن یعنی سویلیزیشن کا نتیجہ ہیں بہت کچھ دخل ہے مگر کلچر کے اختلاف کا بھی اس سے کم دخل نہیں۔مسلمان خواہ یورپ کا رہنے والا ہو جب اُسے ایشیائی مسلمان ملتا ہے تو جس طرح اس کے دل کی کلی کھل جاتی ہے اس طرح یورپ کے عیسائی کے ساتھ ملنے سے نہیں کھلتی۔جس طرح یورپ کے ایک متعصب عیسائی کے دل کی کلی امریکہ کے ایک دہریہ عیسائی کے ساتھ مل کر کھل جاتی ہے اس طرح یورپ کے ایک مسلمان کے ساتھ مل کر نہیں کھلتی۔کیا اس کی وجہ تعصب مذہب ہے؟ یقینا نہیں۔کیونکہ اگر تعصب مذہب اس کا باعث ہوتا تو چاہئے تھا کہ یہ تعصب ایک عیسائی کو مسلمان کی نسبت ایک دہریہ کا زیادہ مخالف بناتا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔پس اصل وجہ یہی ہے کہ ایک عیسائی خواہ وہ دہریہ ہو گیا ہو مگر اُس کی تہذیب یا کلچر عیسائی ہے۔اس کا فکر تو عیسائیت سے آزاد ہو گیا ہے مگر اُس کی طبیعت اور افعال عیسائیت کی تہذیب سے آزاد نہیں ہوئے۔کیونکہ نسلوں کا اثر ایک دم مٹایا نہیں جا سکتا۔ایک آرٹسٹ خواہ دہریہ ہو اس کی تصویریں، اس کی میوزک اور اس کی تعمیر عیسائی کلچر سے جدا نہیں ہو سکتی اور اگر وہ جدا ہو گی تو ایک بھونڈی سی چیز نظر آئے گی جیسے گلاب کے باغ میں کیکر کا درخت لگا دیا جائے۔