دیباچہ تفسیر القرآن — Page 352
میں سے خون ٹپکنے لگا اور ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ یہ شخص جس نے ایسے موقع پر بجائے نصیحت حاصل کرنے کے اس قسم کی بات چھیڑ دی ہے سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے مگر اُس صحابی نے پرواہ نہ کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو تمہارا حق ہے کہ بدلہ لو اور آپ نے کروٹ بدلی اور اپنی پیٹھ اُس کی طرف کر دی اور فرمایا لو میرے کہنی مار لو۔اُس صحابیؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! جب میرے کہنی لگی تھی اُس وقت میرا جسم ننگا تھا کیونکہ میرے پاس کرتہ نہ تھا کہ میں اُسے پہنتا۔آپ نے فرمایا میرا کرتہ اُٹھا دو اور ننگے جسم پر کہنی مار کر اپنا بدلہ لے لو۔اُس صحابیؓ نے آپ کا کرتہ اُٹھایا اور کانپتے ہوئے ہونٹوں اور آنسو بہاتی آنکھوں سے جھک کر آپ کی کمر کو بوسہ دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا؟ اس نے جواب میں کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! جب آپ فرماتے ہیںکہ آپ کی موت قریب ہے تو آپ کو چھونے اور پیار کرنے کے مواقع ہمیں کب تک ملیں گے۔بیشک جنگ کے موقع پر مجھے آپ کی کہنی لگی تھی، لیکن کس کے دل میں اُس کہنی لگنے کا بدلہ لینے کا خیال بھی آسکتا ہے۔میرے دل میں خیال آیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںکہ آج مجھ سے بدلہ لے لو تو چلو اِس بہانہ سے میں آپ کو پیار ہی کر لوں۔۳۸۵؎ وہی صحابہؓ جن کے دل غصہ سے خون ہو رہے تھے اِس بات کو سن کر اُنہی کے دل میں اس حسرت سے بھر گئے کہ کاش! یہ موقع ہم کو نصیب ہوتا! مرض بڑھتا گیا، موت قریب آتی گئی۔مدینہ کا سورج باوجود پہلے کی سی آب و تاب سے چمکنے کے صحابہ کی نظروں میں زرد رہنے لگا۔دن چڑھتے تھے مگر اُن کی آنکھوں پر تاریکی کے پردے پڑتے چلے جاتے تھے آخر وہ وقت آ گیا جب کہ خدا کے رسول کی روح دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے کے حضور میں حاضر ہونے والی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس تیز ہونے لگا اور سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے لگی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا میرا سر اُٹھا کر اپنے سینہ کے ساتھ رکھ لو کیونکہ لیٹے لیٹے سانس نہیں لیا جاتا۔حضرت عائشہؓ نے آپ کا سر اُٹھا کر اپنے سینہ کے ساتھ لگا لیا اور آپ کو سہارا دے کر بیٹھ گئیں۔موت کی تکلیف آپ پر طاری تھی۔آپ گھبراہٹ سے بیٹھے بیٹھے کبھی اِس پہلو پر جھکتے تھے اور کبھی اُس پہلو پر اور فرماتے تھے خدا بُرا کرے یہود اور نصاریٰ کا کہ اُنہوں نے اپنے نبیوں کے مرنے