دیباچہ تفسیر القرآن — Page 331
کی یہ باتیں سن کر اور آپ کی محبت اور آپ کی وفا کو دیکھ کر روتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! خدا کی قسم! ہم نے خدا اور اس کے رسول پر بد ظنی کی۔۳۶۶؎ بات یہ ہے کہ ہمارے دل اس خیال کو برداشت نہیں کر سکتے کہ خدا کا رسول ہمیں اور ہمارے شہر کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے۔آپ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تم لوگوں کو بری سمجھتے ہیں اور تمہارے اخلاص کی تصدیق کرتے ہیں۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے لوگوں میںیہ پیار اور محبت کی باتیں ہو رہی ہوں گی اگر مکہ کے لوگوں کی آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے ہوں گے تو ان کے دل یقینا آنسو بہا رہے ہوں گے کہ وہ قیمتی ہیرا جس سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز اِس دنیا میں پیدا نہیں ہوئی خدا نے اُن کو دیا تھا مگر اُنہوں نے اُس کو اپنے گھروں سے نکال کر پھینک دیا اور اب کے وہ خدا کے فضل اور اُس کی مدد کے ساتھ دوبارہ مکہ میں آیاتھا وہ اپنے وفائے عہد کی وجہ سے اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ واپس جا رہا ہے۔جن لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ ان کے بعض ظالمانہ قتلوں اور ظلموں کی وجہ سے ان کو قتل کیا جائے ان میں سے اکثر کو مسلمانوں کی سفارش پر آپ نے چھوڑ دیا۔ا نہی لوگوںمیں سے ابوجہل کا بیٹا عکرمہ بھی تھا۔عکرمہ کی بیوی دل سے مسلمان تھی اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! عکرمہ کو بھی آپ معاف فرما دیں۔آپ نے فرمایا ہاں ہا ں! ہم اُسے معاف کرتے ہیں۔عکرمہ بھاگ کر یمن کی طرف جارہے تھے کہ بیوی اپنے خاوند کی محبت میں پیچھے پیچھے اُس کی تلاش میں گئی۔جب وہ ساحل سمندر پر کشتی میں بیٹھے ہوئے عرب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنے پر تیار تھے کہ پراگندہ سر اور پریشان حال بیوی گھبرائی ہوئی پہنچی اور کہا اے میرے چچا کے بیٹے! (عرب عورتیں اپنے خاندوں کو چچا کا بیٹا کہاکرتی تھیں) اتنے شریف اور اتنے رحمدل انسان کو چھوڑ کر کہا ں جا رہے ہو؟ عکرمہ نے حیرت سے اپنی بیوی سے پوچھا کیا میری ان ساری دشمنیوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معاف کر دیںگے؟ عکرمہ کی بیوی نے کہا ہاں ہاں! میں نے اُن سے عہد لے لیا ہے اور انہوں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے میرے جیسے انسان کو بھی معاف کر دیا