دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 326

بغض اور کینہ رکھنے کی لوگوں کو تعلیم دیتی چلی آئی تھی اور باوجود کافر ہونے کے فی الحقیقت ایک بہادر عورت تھی آگے بڑھ کر اپنے خاوند کی ڈاڑھی پکڑ لی اور مکہ والوں کو آوازیں دینی شروع کیں کہ آئو اور اِس بڈھے احمق کو قتل کر دو کہ بجائے اِس کے کہ تم کو یہ نصیحت کرتا کہ جائو اور اپنی جانوں اور اپنے شہر کی عزت کے لئے لڑتے ہوئے مارے جائو یہ تم میں امن کا اعلان کر رہا ہے۔ابوسفیان نے اُس کی حرکت کو دیکھ کر کہا۔بے وقوف! یہ اِن باتوں کا وقت نہیں جا اور اپنے گھر میں چھپ جا۔میں اُس لشکر کو دیکھ کر آیا ہوں جس لشکر کے مقابلہ کی طاقت سارے عرب میں نہیں ہے۔پھر ابوسفیان نے بلند آواز سے امان کی شرائط بیان کرنا شروع کیں اور لوگ بے تحاشا اُن گھروں اور اُن جگہوں کی طرف دَوڑ پڑے، جن کے متعلق امان کا اعلان کیا گیا تھا۔۳۵۷؎ صرف گیارہ مرد اور چار عورتیں ایسی تھیں جن کی نسبت شدید ظالمانہ قتل اور فساد ثابت تھے، وہ گویا جنگی مجرم تھے اور ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ قتل کر دیئے جائیں کیونکہ وہ صرف کفر یا لڑائی کے مجرم نہیں بلکہ جنگی مجرم ہیں۔اِس موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولیدؓ کو بڑی سختی سے حکم دے دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص لڑے نہیں تم نے لڑنانہیں۔لیکن جس طرف سے خالدؓ شہر میں داخل ہوئے اُس طرف امن کا اعلان ابھی نہیں پہنچا تھا اُس علاقہ کی فوج نے خالد کا مقابلہ کیا اور ۲۴ آدمی مارے گئے۔چونکہ خالدؓ کی طبیعت بڑی جوشیلی تھی کسی نے دَوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبرپہنچا دی اور عرض کیا کہ خالدؓ کو روکا جائے ورنہ وہ سارے مکہ والوں کو قتل کر دے گا۔آپ نے فوراً خالد کو بلوایا اور فرمایا کیا میں نے تم کو لڑائی سے منع نہیں کیا تھا؟ خالدؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!آپ نے منع تو فرمایا تھا لیکن اِن لوگوں نے پہلے ہم پر حملہ کیا اور تیر اندازی شروع کر دی میں کچھ دیر تک رُکا اور میں نے کہا کہ ہم تم پر حملہ نہیں کرنا چاہتے تم ایسا مت کرو۔مگر جب میں نے دیکھا کہ یہ کسی طرح باز نہیں آتے تو پھر میں اُن سے لڑا اور خدا نے اُن کو چاروں طرف پراگندہ کر دیا۔۳۵۸؎ بہرحال اس خفیف سے واقعہ کے سوا او ر کوئی واقعہ نہ ہوا اور مکہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبضہ ہو گیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے آپ سے لوگوں