دیباچہ تفسیر القرآن — Page 305
اور اپنی ایک لونڈی کے سپرد کر دیا اور پھر اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یہ خط لکھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ محمد بن عبداللہ کی طرف مقوقس قبط کا بادشاہ خط لکھتا ہے کہ آپ پر سلامتی ہو۔اس کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے آپ کا خط پڑھا ہے اور جو کچھ اس میں آپ نے ذکر کیا ہے اور جن باتوں کی طرف بلایا ہے اُن پر غور کیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی پیشگوئیوں کے مطابق ایک نبی کا آنا ابھی باقی ہے۔لیکن میرا خیال تھا کہ وہ شام سے ظاہر ہو گا میں نے آپ کے سفیر کو بڑی عزت سے ٹھہرایا ہے اور ایک ہزار پونڈ اور پانچ جوڑے خلعت کے طور پر اُسے دئیے ہیں اور میں دو مصری لڑکیاں آپ کے لئے تحفہ کے طور پر بجھوا رہا ہوں۔قطبی قوم کے نزدیک اِن لڑکیوں کی بڑی عزت ہے اور ان میں سے ایک کا نام ماریہ ہے اور ایک کا نام سیرین ہے اور مصری کپڑے کے اعلیٰ درجہ کے بیس جوڑے بھی آپ کی خدمت میں بجھوا رہا ہوں اور اسی طرح ایک خچر آپ کی سواری کے لئے بجھوا رہا ہوں اور آخر میں پھر دعا کرتا ہوں کہ خدا کی آپ پر سلامتی ہو ۳۳۷؎ اِس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ گو مقوقس نے آپ کے خط سے ادب اور احترام کا معاملہ کیا مگر وہ اسلام نہیں لایا۔رئیس بحرین کے نام خط پانچواں خط آپ نے منذرتیمی کی طرف جو بحرین کا رئیس تھا بجھوایا تھا۔یہ خط علاء ابن حضرمیؓ کے ہاتھ بجھوایا گیا تھا۔اس خط کی عبارت محفوظ نہیں۔یہ خط جب اس کے پاس پہنچا تو وہ ایمان لے آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا کہ میں اور میرے بہت سے ساتھی آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور میرے ملک میں کچھ یہودی اور مجوسی بھی رہتے ہیں آپ اُن کے بارہ میں مجھے حکم دیں کہ میں ان سے کیا سلوک کروں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خط لکھا جس کی عبارت یہ تھی کہ ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تم نے اسلام قبول کر لیا ہے جو پیغامبر میری طرف سے آئیں تم اُن کے احکام کی اتباع کیا کرو۔کیونکہ جو ان کی ابتاع کرے گا وہ میری اتباع کرے گا۔جو میرا سفیر تمہاری طرف گیا تھا اُس نے تمہاری بہت تعریف کی ہے اور ظاہر کیا ہے کہ تم نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میں نے خدا تعالیٰ سے تمہاری قوم کے