دیباچہ تفسیر القرآن — Page 301
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو بلایا اور اُن کو اس پیشگوئی کی خبر دی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باذان کی طرف خط لکھا کہ خد اتعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ کسریٰ فلاں تاریخ فلاں مہینے قتل کر دیا جائے گا۔جب یہ خط یمن کے گورنر کو پہنچا تو اس نے کہا اگر یہ سچا نبی ہے تو ایسا ہی ہو جائے گا۔ورنہ اس کی اور اس کے ملک کی خیر نہیں۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ایران کا ایک جہاز یمن کی بندر گاہ پر آکر ٹھہرا اور گورنر کو ایران کے بادشاہ کا ایک خط دیا جس کی مہر کو دیکھتے ہوئے یمن کے گورنر نے کہا۔مدینہ کے نبی نے سچ کہا تھا۔ایران کی بادشاہت بدل گئی اور اس خط پر ایک اور بادشاہ کی مہر ہے۔جب اس نے خط کھولا تو اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ باذان گورنر یمن کی طرف ایران کے کسریٰ شیرویہ کی طرف سے یہ خط لکھا جاتا ہے۔میں نے اپنے باپ سابق کسریٰ کو قتل کر دیا ہے اس لئے کہ اس نے ملک میں خونریزی کا دروازہ کھول دیا تھا اور ملک کے شرفاء کو قتل کرتا تھا اور رعایا پر ظلم کرتا تھا۔جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو فوراً تمام افسروں سے میری اطاعت کا اقرار لو اور اس سے پہلے میرے باپ نے جو عرب کے ایک نبی کی گرفتاری کا حکم تم کو بجھوایا تھا اُس کو منسوخ سمجھو۔۳۳۴؎ یہ خط پڑھ کر باذان اتنا متأثر ہوا کہ اُسی وقت وہ اور اس کے کئی ساتھی اسلام لے آئے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام کی اطلاع دے دی۔نجاشی شاہ حبشہ کے نام خط تیسرا خط آپ نے نجاشی کے نام لکھا جو عمرو بن اُمیہ ضمری ؓکے ہاتھ بجھوایا تھا اس کی عبارت یہ تھی۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مِنْ مُّحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰہِ اِلیَ النَّجَاشِیْ مَلِکِ الْحَبْشَۃَ سَلْمٌ اَنْتَ اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَحْمَدُ اِلَیْکَ اللّٰہَ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ۔وَاَشْھَدُاَنَّ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رُوْحُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُۃٗ اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ الْبَتُوْلَ وَاِنِّیْ اَدْعُوْکَ اِلیَ اللّٰہِ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَالْمَوَالَاۃ عَلٰی طَاعَتِہٖ وَاِنْ تَتَّبِعَنِیْ وَتُؤْمِنَ بِالَّذِیْ جَائَ نِیْ فَاِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاِنِّیْ اَدْعُوْکَ وَ جُنُوْدَکَ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَدْ بَلَّغْتُ وَ نَصَحَتُ فَاقْبِلُوْا نَصِیْحَتِیْ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی ۳۳۵؎