دیباچہ تفسیر القرآن — Page 293
کے مقام پر پھر جانے نہیں دیں گے۔خود ابوجندل نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یَارَسُوْل اللّٰہ !آپ میری حالت کو دیکھتے ہیں کیا آپ اس بات کو گوارا کریں گے کہ پھر مجھے اِ ن ظالموں کے سپرد کر دیں تاکہ پہلے سے بھی زیادہ مجھ پر ظلم توڑیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کے رسول معاہدے نہیں توڑا کرتے۔ابوجندل! ہم معاہدہ کرچکے ہیں تم اب صبر سے کام لو اور خدا پر توکل کرو وہ تمہارے لیے اور تمہارے جیسے اور نوجوانوں کے لئے خو دہی بچنے کی کوئی راہ پیدا کردے گا۔۳۲۶؎ اس معاہدے کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لے گئے۔جب آپ مدینہ پہنچے تو مکہ کا ایک اور نوجوان ابوبصیرؓ آپ کے پیچھے پیچھے دَوڑتا ہوا مدینہ پہنچا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بھی معاہدہ کے مطابق واپس جانے پر مجبور کیا مگر راستہ میں اُس کی اپنے پکڑنے والوں سے لڑائی ہو گئی اور اپنے ایک محافظ کو قتل کر کے وہ بھاگ گیا۔مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر شکایت کی تو آپ نے فرمایا ہم نے تمہارا آدمی تمہارے حوالے کر دیا تھا ہم اس بات کے ذمہ دار نہیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ہم اُس کو پکڑ کر دوبارہ تمہارے سپرد کریں۔۳۲۷؎ اس کے تھوڑے دنوں بعد ایک عورت بھاگ کر مدینہ پہنچی۔اس کے رشتہ داروں نے مدینہ پہنچ کر اُسے واپس بھجوانے کا مطالبہ کیا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاہدہ میں مردوں کی شرط ہے عورتوں کی شرط نہیں اس لئے ہم عورت کو واپس نہیں کریں گے۔۳۲۸؎ بادشاہوں کے نام خطوط مدینہ تشریف لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ آپ اپنی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں جب آپ نے اپنے اِس ارادہ کا صحابہؓ سے ذکر کیا تو بعض صحابہ نے جو بادشاہی درباروں سے واقف تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! بادشاہ بغیر مہر کے خط نہیں لیتے۔اِس پر آپ نے ایک مہر بنوائی جس پر’’ محمد رسول اللہ‘‘ کے الفاظ کھدوائے اور اللہ تعالیٰ کے ادب کے طور پر آپ نے سب سے اوپر ’’ اللہ‘‘ کا لفظ لکھوا دیا۔نیچے ’’ رسول‘‘ کا اور پھر نیچے ’’محمد ‘‘ کا۔۳۲۹؎