دیباچہ تفسیر القرآن — Page 290
تم نے سنا ہے کہ عثمانؓ کو مکہ والوں نے مار دیا ہے اگر یہ خبر درست نکلی تو ہم بزور مکہ میں داخل ہوں گے (یعنی ہمارا پہلا ارادہ کہ صلح کے ساتھ مکہ میں داخل ہوں گے جن حالات کے ماتحت تھا وہ چونکہ تبدیل ہو جائیں گے اِس لئے ہم اِس ارادہ کے پابند نہ رہیں گے) جو لوگ یہ عہد کرنے کے لئے تیار ہوں کہ اگر ہمیں آگے بڑھنا پڑا تو یا ہم فتح کر کے لوٹیں گے یا ایک ایک کر کے میدان میں مارے جائیں گے وہ اس عہد پر میری بیعت کریں۔آپ کا یہ اعلان کرنا تھا کہ پندرہ سَو زائر جو آپ کے ساتھ آیا تھا یکدم پندرہ سَو سپاہی کی شکل میں بدل گیا اور دیوانہ وار ایک دوسرے پر پھاندتے ہوئے اُنہو ں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر دوسروں سے پہلے بیعت کرنے کی کوشش کی۔یہ بیعت تمام اسلامی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور درخت کا عہد نامہ کہلاتی ہے کیونکہ جس وقت یہ بیعت لی گئی اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔جب تک اس بیعت میں شامل ہونے والا آخری آدمی بھی دنیا میں زندہ رہا وہ فخر سے اِس بیعت کا ذکر کیا کرتا تھا۔کیونکہ پندرہ سَو آدمیوں میں سے ایک شخص نے بھی یہ عہد کرنے سے دریغ نہ کیا تھا کہ اگردشمن نے اسلامی سفیر کو مار دیا ہے تو آج دو صورتوں میں سے ایک ضرور پیدا کر کے چھوڑیں گے۔یا وہ شام سے پہلے پہلے مکہ کو فتح کر کے چھوڑ یں گے یا شام سے پہلے پہلے میدانِ جنگ میں مارے جائیںگے۔لیکن ابھی بیعت سے مسلمان فارغ ہی ہوئے تھے کہ حضرت عثمانؓ واپس آگئے اور اُنہوں نے بتایا کہ مکہ والے اِس سال تو عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے مگر آئندہ سال اجازت دینے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ اِس بارہ میں معاہدہ کرنے کے لئے اُنہوں نے اپنے نمائندے مقرر کر دئیے ہیں۔حضرت عثمانؓ کے آنے کے تھوڑی دیر بعد مکہ کا ایک رئیس سہیل نامی معاہدہ کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ معاہدہ لکھا گیا۔شرائط صلح حدیبیہ ’’ خدا کے نام پر یہ شرائط صلح محمد ابن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور سہیل ابن عمرو ( قائمقام حکومت مکہ کے درمیان طے پائی ہیں۔جنگ دس سال کے لئے بند کی جاتی ہے۔جو شخص محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ملنا چاہے یا اُن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہے وہ ایسا کر سکتا ہے۔