دیباچہ تفسیر القرآن — Page 289
نے حدیبیہ پر ڈیرہ ڈال دیا۔تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر کہ آپ حدیبیہ پر ڈیرے ڈالے پڑے ہیں مکہ کے لشکرکو بھی جا پہنچی اور اُس نے جلدی سے پیچھے ہٹ کر مکہ کے قریب صفیں بنا لیں۔سب سے پہلے بدیل نامی ایک سردار آپ سے بات کرنے کے لئے بھیجا گیا۔جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا۔میں تو صرف طواف کرنے کے لئے آیا ہوں۔ہاں مکہ والے اگر ہمیں مجبور کریں تو ہمیں لڑنا پڑے گا۔اِس کے بعد مکہ کے کمانڈر ابوسفیان کا داماد عروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نہایت گستاخا نہ طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا کہ یہ اُوباشوں کا گروہ آپ اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں مکہ والے اِنہیں کسی صورت میں بھی اپنے شہر میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔اِسی طرح یکے بعد دیگرے پیغامبر آتے رہے۔آخر مکہ والوں نے کہلا بھیجا کہ خواہ کچھ ہو جائے اِس سال تو ہم آپ کو طواف نہیں کرنے دیں گے کیونکہ اس میں ہماری ہتک ہے۔ہاں اگر آپ اگلے سال آئیں تو ہم آپ کو اجازت دے دیں گے۔بعض اِ ردگرد کے لوگوں نے مکہ والوں سے اصرار کیا کہ یہ لوگ صرف طواف کے لئے آئے ہیں آپ ان کو کیوں روکتے ہیں مگر مکہ کے لوگ اپنی ضد پر قائم رہے۔اس پر بیرونی قبائل کے لوگوں نے مکہ والوں سے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ طریق بتاتا ہے کہ آپ کو شرارت مدنظر ہے صلح مدنظر نہیں اِس لئے ہم لوگ آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں۔اس پر مکہ کے لوگ ڈر گئے اور اُنہوں نے اِس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ سمجھوتہ کی کوشش کریں گے۔جب اس امر کی اطلاع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے حضرت عثمانؓ کو جو بعد میں آپ کے تیسرے خلیفہ ہوئے مکہ والوں سے بات چیت کرنے کے لئے بھیجا۔جب حضرت عثمانؓ مکہ پہنچے تو چونکہ مکہ میں اُن کی بڑی وسیع رشتہ داری تھی اُن کے رشتہ دار اُن کے گرد اکٹھے ہوگئے اور اُن سے کہا کہ آپ طواف کر لیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال آکر طواف کریں۔مگر عثمانؓ نے کہا کہ میں اپنے آقا کے بغیر طواف نہیں کر سکتا۔چونکہ رئوسائے مکہ سے آپ کی گفتگو لمبی ہو گئی، مکہ میں بعض لوگوں نے شرارت سے یہ خبر پھیلادی کہ عثمانؓ کوقتل کر دیا گیا ہے اور یہ خبر پھیلتے پھیلتے رسول اللہ صلی علیہ وسلم تک بھی جا پہنچی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو جمع کیا اور فرمایا سفیر کی جان ہر قوم میں محفوظ ہوتی ہے