دیباچہ تفسیر القرآن — Page 173
کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں اور بیکس اور بے مددگار لوگوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔وہ اخلاق جو ملک سے مٹ چکے تھے وہ آپ کی ذات کے ذریعہ سے دوبارہ قائم ہورہے ہیں۔مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور سچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔کیاایسے انسان کو خد اتعالیٰ ابتلاء میں ڈال سکتا ہے؟ پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی ہو چکے تھے۔اُنہوں نے جب یہ واقعہ سنا تو بے اختیار بول اُٹھے آپ پر وہی فرشتہ نازل ہوا ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا۱۹۱؎ گویا اشتناء باب ۱۸ آیت ۱۸ والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا۔جب اِس بات کی خبر زید آپ کے آزاد کردہ غلام کو جو اُس وقت کوئی پچیس تیس سال کے تھے اور علیؓ آپ کے چچا کے بیٹے کو جن کی عمر اُس وقت گیارہ سال کی تھی پہنچی تو دونوں آپ پر فوراً ایمان لائے۔حضرت ابوبکرؓ کا آنحضرت ﷺپر ایمان لانا ابوبکرؓ آپ کے بچپن کے دوست جو شہر سے باہر گئے ہوئے تھے، جب شہر میں داخل ہوئے تو معاً اُن کے کانوں میں یہ آوازیں پڑنی شروع ہوئیں کہ تمہارا دوست دیوانہ ہوگیا ہے، وہ کہتا ہے آسمان سے فرشتے اُتر کر مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔ابوبکرؓ سیدھے آپ کے دروازہ پر آئے اور دستک دی۔جب آپ نے دروازہ کھولا تو اُنہوں نے آپ سے حقیقت حال کے متعلق سوال کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن کے دوست کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے کچھ تشریح کرنی چاہی۔ابوبکرؓ نے روکا اور کہا کہ مجھے صرف اتنا جواب دیجئے کہ کیا آپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ خدا کے فرشتے آپ کے پاس آئے اور اُنہوں نے آپ سے باتیں کیں؟ آپ نے پھر تشریح کرنی چاہی مگر ابوبکرؓ نے قسم دے کر کہا کہ صرف اِس سوال کا جواب دیجئے اور کچھ نہ کہئے۔جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو ابوبکرؓ نے کہا گواہ رہئے میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور پھر کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ !آپ تو دلائل دے کر میرے ایمان کو کمزور کرنے لگے تھے۔جس نے آپ کی زندگی کو دیکھا ہو کیا اُسے آپ کی سچائی کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہو سکتی ہے؟۱۹۲؎