دیباچہ تفسیر القرآن — Page 162
شروع سے ہی اس امر کی اہمیت سمجھی گئی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہؓ تیرہ چودہ سال کی عمر میں آپ سے بیاہی گئیں اور کوئی سات سال کا عرصہ آپ کی صحبت میں رہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو اُن کی عمر۲۱ سال تھی اور وہ پڑھی لکھی بھی نہیں تھیں لیکن باوجود اِس کے اُن پر یہ فلسفہ روشن تھا۔ایک دفعہ آپ سے کسی نے سوال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق تو کچھ فرمائیے تو آپ نے فرمایا کَانَ خُلُقُہٗ کُلُّہُ الْقُرْاٰنُ ۱۸۴؎ یعنی آپ کے اخلاق کا پوچھتے ہو جو کچھ آپ کہا کرتے تھے اُنہی باتوں کا قرآن کریم میں حکم ہے اور قرآن کریم کی لفظی تعلیم آپ کے عمل سے جداگانہ نہیں ہے۔ہر خلق جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اُس پر آپ کا عمل تھا اور ہر عمل جو آپ کرتے تھے اُسی کی قرآن کریم میں تعلیم ہے۔یہ کیسی لطیف بات ہے۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اتنے وسیع اور اتنے اعلیٰ تھے کہ ایک نوجوان لڑکی جو تعلیم یافتہ بھی نہیں تھی اُس کی توجہ کو بھی اِس حد تک پھر انے میں کامیاب ہوگئے کہ ہندو، یہودی اور مسیحی فلسفی جس امر کی حقیقت کو نہ سمجھ سکے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس امر کی حقیقت کو پاگئیں اور ایک چھوٹے سے فقرہ میں آپ نے یہ لطیف فلسفہ بیان کردیا کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک راستباز اور مخلص انسان دنیا کو ایک تعلیم دے اور پھر اُس پر عمل نہ کرے یا خود ایک نیکی پر عمل کرے اور دنیا سے اُسے چھپائے اس لئے تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق معلوم کرنے کے لئے کسی تاریخ کی ضرورت نہیں۔وہ ایک راستباز اور مخلص انسان تھے جو کہتے تھے وہ کرتے تھے اور جوکرتے تھے وہ کہتے تھے۔ہم نے اُن کو دیکھا اور قرآن کریم کو سمجھ لیا۔تم جوبعد میں آئے ہو قرآن پڑھو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لو۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔محمد ﷺکے ظہور کے وقت عرب کی حالت بت پرستی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں پیدا ہوئے اُس زمانہ کے حالات کو بھی آپ کے حالات کا ایک حصہ ہی سمجھنا چاہئے کیونکہ اِسی پس پردہ کو مدنظر