دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 97

چوتھا سوال اور اُس کا جواب چوتھا سوال جو پہلی کتب کی موجودگی میں قرآن کریم کے نزول کی ضرورت کے متعلق روشنی ڈال سکتا ہے یہ ہے کہ کیا سابق مذاہب اپنی تعلیم کو حتمی اور آخری قرار دے رہے تھے؟ یا وہ خود بھی ایک ارتقاء کے قائل تھے؟ اور روحانیت کی ترقی کے لئے ایک ایسے نقطہ کی خبر دے رہے تھے جس پر جمع ہو کر بنی نوع کو انسانی پیدائش کے مقصد کوحاصل کرنا تھا؟ بائبل میں قرآن مجید کے نزول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے متعلق پیشگوئیاں اس سوال کے متعلق یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ انبیاء کی ایک مسلسل کڑی جو ہمیں الٰہی منشاء سے آگاہ کر سکے درحقیقت ہمیں بائبل میں ہی ملتی ہے۔انبیاء کے حالات کو محفوظ رکھنے میں بائبل نے جو کام کیا وہ قرآن کریم سے پہلے اور کسی کتاب نے نہیں کیا اِس لئے ہم اس سوال کا جواب دینے کیلئے کہ آیا پہلی کتابیں اپنے بعد کسی اور کتاب کی اور پہلے نبی اپنے بعد کسی اور نبی کی خبر دیتے ہیں یا نہیں جو دنیا میں ہدایت اور راستی کی تعلیم کو مکمل کرنے والا اوربنی نوع انسان کی روحانی ترقی کا آخری نقطہ بننے والا تھا، بائبل پر نظر ڈالتے ہیں۔پہلی پیشگوئی۔حضرت ابراہیم کی اولاد سے وعدہ بائبل کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کے بہت سے وعدے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کسدیوں کے اُور میںپیدا ہوئے اور وہاں سے اپنے باپ کے ساتھ ہجرت کر کے کنعان کی طرف روانہ ہوئے لیکن اُن کے والد حاران میں آکر ٹھہر گئے۔اُن کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حاران سے نکل کر کنعان کوروانہ ہوں اور فرمایا:۔’’ اور میں تجھے ایک بڑی قوم بنائوں گا اور تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کروں گا اور