دیباچہ تفسیر القرآن — Page 477
پر پڑتا ہے۔پس جب تک خدا تعالیٰ کی حکومت یا اُس کے انبیاء کی حکومت کے انکار کی روح نہ پیدا ہو جائے صرف غلطی یا کمزوری کی وجہ سے انسانی عمل میں اگر کوئی خامی رہ جائے تو ضروری نہیں کہ ایسی خامی انسان کو اپنے مقصد کے حاصل کرنے میں ناکام کر دے۔اگر خامی بہت زیادہ بھی ہو تو سچی توبہ اور دعا بھی اس کا ازالہ کر سکتے ہیں۔اُوپر کے دو قانونوں کے علاوہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دو اَور قانون بھی ہیں ایک قانونِ تمدن اور دوسرا قانونِ اخلاق یہ دونوں قانون درحقیقت قانونِ قدرت اورقانونِ شریعت کی سرحدیں ہیں۔قانونِ اخلاق قانونِ شریعت کی طرف کی سرحد ہے اور قانونِ تمدن قانونِ قدرت کی طرف کی سرحد ہے اِس لئے یہ دونوں قانون بہت کچھ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔بہت سے تمدنی قانونوں کی بنیاد قانونِ اخلاق پر ہوتی ہے اور بہت سے اخلاقی قانونوں کی بنیاد قانونِ تمدن پر ہوتی ہے۔انسان چونکہ مدنی الطبع پیدا ہوا ہے، اِس لئے وہ اِن دو قانونوں کا محتاج تھا۔چونکہ قانونِ تمدن قانونِ قدرت سے ملتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا اختیار زیادہ تر بنی نوع انسان کو دیا ہے اور چونکہ قانون اخلاقِ قانونِ شریعت سے ملتا ہے اس لئے قانونِ اخلاق کو قانونِ شریعت کے اندر داخل کیا گیا ہے گوا س کی بعض شقوں کو بنی نوع انسان کے سپرد بھی کر دیا گیا ہے۔تمام دنیا کا نظام اِن چاروں قانونوں سے چل رہا ہے۔قانونِ قدرت میں بھی کسی کا دخل نہیں وہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے اور قانونِ شریعت میں بھی کسی انسان کا دخل نہیں وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے لیکن قانونِ تمدن اور قانونِ اخلاق میں خد اتعالیٰ اور انسانی نظام شریک ہو جاتے ہیں کچھ راہنمائی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور کچھ اختیار انسان کو دیا جاتا ہے اور اس طرح خدا اور بندے کے تعاون سے اِس دنیا کا نظام بہتر سے بہتر بنایا جاتا ہے۔جب تک یہ دو دریا متوازی چلتے رہتے ہیں اُس وقت تک دنیا میں امن قائم رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے ساتھ مل کر انسان بھی دنیا میں ایک مفید اور بابرکت حکومت قائم کر لیتا ہے اور جب یہ دو دریا مختلف جہات میں بہنا شروع کر دیتے ہیں یا دوسرے لفظو ں میں یہ کہو کہ انسانی عقل کی ندی اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنا رستہ بدل دیتی ہے اور خدائی راہنمائی کی ندی کے ساتھ ساتھ چلنے کی برکت سے محروم ہو جاتی ہے تو دنیا میں فساد اور جھگڑا اور لڑائی پید اہو جاتی ہے اور