دیباچہ تفسیر القرآن — Page 418
حفظ کرا دیتے ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نابینا کوئی دُنیوی کام تو کر نہیں سکتا کم سے کم وہ قرآن کی خدمت ہی کرے گا۔یہ رواج اتنا غالب ہے کہ لاکھوں مسلمان نابینوں کو بغیر پوچھے اور بغیر دریافت کئے ایک ہندوستانی ملتے ہی حافظ صاحب کے نام سے یاد کرے گا یعنی وہ جس نے سارا قرآن یاد کیا ہوا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ نابینوں میں سے اتنے حافظ قرآن ہوتے ہیں کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں ہو سکتا کہ کوئی نابینا ہو اور قرآن کا حافظ نہ ہو۔ہررمضان میں ساری دنیا کی ہر بڑی مسجد میں سارا قرآن کریم حافظ لوگ حفظ سے بلند آواز کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ایک حافظ امامت کراتا ہے اور دوسرا حافظ اُس کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے تا اگر کسی جگہ پر وہ بھول جائے تو اُس کو یاد کرائے۔اِس طرح ساری ہی دنیا میں لاکھوں جگہ پر قرآن کریم صرف حافظ سے دُہرایا جاتا ہے۔یہی وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے یورپ کے دشمنوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا ہے کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک بالکل محفوظ چلا آتا ہے اور یہ کہ یقینی طور پر یہ کہاجا سکتا ہے کہ جس شکل میںقرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دیا تھا اُسی شکل میں آج موجود ہے۔چنانچہ ذیل میں ہم بعض یورپین مصنفین کی گواہی پیش کرتے ہیں:۔(۱) سرولیم میور اپنی کتاب لائف آف محمد صفحہ ۲۸میں بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ``What we now have, though Possibly Corrected and ۵۳۵؎modified himself, is still his own``۔ترجمہ: گو یہ ممکن ہے کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)نے قرآن خود ہی بنایا تھا مگر جو قرآن ہمارے پاس آج موجود ہے یہ وہی ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔(۲) پھر لکھتے ہیں: ``We may upon the Strongest presumption affirm that every verse in the Quran is genuine and unaltered ۵۳۶؎composition of Mohammad himself``۔ترجمہ: ہم نہایت مضبوط قیاسات کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک آیت جو قرآن