دیباچہ تفسیر القرآن — Page 408
ؓ۔حضرت عثمانؓ۔حضرت علیؓ۔۵۳۰؎ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف نازل ہوتا تو آپ اِن لوگوں میں سے کسی کو بلا کر وحی لکھوا دیتے تھے۔(۲) کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ پانچ وقت نماز ادا نہ کرے۔پانچ وقت کی نمازوں میں یہ فرض ہے کہ قرآن شریف کا کچھ حصہ پڑھا جائے اِس لئے ہر مسلمان کو قرآن شریف کے کچھ ٹکڑے یادکرنے پڑتے ہیں اگر صحابہؓ میں سے سَو سَو کو مل کر بھی ایک قرآن یاد ہوتا تب بھی سارے قرآن کے کئی ہزار حفاظ اُن میں موجود تھے۔(۳) اِسلام کا سارا قانون قرآن میں ہے اِس کی فقہ بھی قرآن میںہے، اِس کا علم الاخلاق بھی قرآن میں ہے، اِس کا علم العقائد بھی قرآن میں ہے اور اِس کا فلسفۂ تعلیم بھی قرآن میں ہے۔قوم کی ترقی اور قوم بنانے کے لئے اِن سب چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اِن سارے اُمور کے لئے آدمی تیار کرتے تھے۔چنانچہ آپ کے زمانہ میں ہی قاضی بھی مقرر تھے، علم الاحکام کے بیان کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، مسائل اعتقادیہ کے بیان کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، مفتیانِ شریعت بھی موجود تھے اور یہ لوگ اپنا کام نہیں کر سکتے تھے جب تک اِن کو قرآن حفظ نہ ہو اِ س لئے ایسے سب لوگوں کو قرآن کریم حفظ کرنا پڑتا تھا۔(۴) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفظ قرآن کی فضیلت پر بڑا زور دیتے تھے، یہاں تک کہ آپ فرماتے تھے جو شخص قرآن کریم کو حفظ کرلے گا قیامت کے دن قرآن اُس کو دوزخ میں جانے سے بچائے گا۵۳۱؎ اور اِس میں تو کوئی بھی شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وہ صحابی دیئے تھے جو ہر ثواب کے لئے جان توڑ کوشش کرتے تھے اِس لئے جب آپ نے یہ اعلان فرمایا تو کثرت کے ساتھ صحابہؓ نے قرآن شریف کو یاد کرنا شروع کیا حتیٰ کہ ایسے ایسے لوگ بھی قرآن شریف کو حفظ کرنے کی کوشش کرتے تھے جن کی زبانیں صاف نہیں تھیں اور جن کے علم بہت کمزور تھے۔چنانچہ امام احمدؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا اِنِّیْ اَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ فَـلَا اَجِدُ قَلْبِیْ یَعْقِلُ عَلَیْہِ۔یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں قرآن تو پڑھتا ہوں مگر میرا دل اِس کو سمجھتا نہیں۔اِس