دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 386

ساتھ بٹھا کر کم سے کم تھوڑا سا کھا نا ضرور کھلائو کیونکہ اُس نے کھانا پکا کر اپنا حق قائم کر لیا ہے۔۴۷۳؎ بنی نوع اِنسان کی خدمت کرنے والوں کا احترام آپ اُن لوگوں کا خاص خیال رکھتے تھے جو بنی نوع انسان کی خدمت میں اپنا وقت خرچ کرتے تھے۔جب طَی قبیلہ کے لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کی اور ان میں سے کچھ لوگ گرفتار ہو کر آئے تو اُن میں حاتم کی جو عرب کا مشہور سخی گزرا ہے بیٹی بھی تھی، جب اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ذکر کیا کہ وہ حاتم کی بیٹی ہے تو آپ نے نہایت ہی ادب اور احترام کا معاملہ اُس سے کیا اور اُس کی سفارش پر اُس کی قوم کی سزائیں معاف کر دیں۔۴۷۴؎ عورتوں سے حسنِ سلوک عورتوں سے حسن سلوک کا آپ خاص خیال رکھتے تھے آپ نے سب سے پہلے دنیا میں عورت کے ورثہ کا حق قائم کیا۔چنانچہ قرآن کریم میں لڑکے اور لڑکیاں باپ اور ماں کے ورثہ کی حقدار قرار دی گئی ہیں۔اِسی طرح مائیں اور بیویاںبیٹیوں اور خاوندوں کے ورثہ میں اور بعض صورتوں میں بہنیں بھی بھائیوں کے ورثہ کی حقدار قرار دی گئی ہیں۔اِسلام سے پہلے دنیا کے کسی مذہب نے بھی اس طرح حقوق قائم نہیں کئے۔اِسی طرح آپ نے عورت کو اس کے مال کا مستقل مالک قرار دیا ہے خاوند کوحق نہیں کہ خاوند ہونے کی وجہ سے عورت کے مال میں دست اندازی کر سکے۔عورت اپنے مال کے خرچ کرنے میں پوری مختار ہے۔عورتوںسے حسن سلوک میں آپ ایسے بڑھے ہوئے تھے کہ عرب لوگ جو اِس بات کے عادی نہ تھے ان کو یہ بات دیکھ کر ٹھوکر لگتی تھی۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بعض دفعہ میری باتوں میں دخل دیتی تو میں اُس کو ڈانٹا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ عرب کے لوگوں نے کبھی عورتوں کا یہ حق تسلیم نہیں کیا کہ وہ مردوں کو اُن کے کاموں میں مشورہ دیں۔اِس پر میری بیوی کہا کرتی کہ جائو جائو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اُن کو مشورہ دیتی ہیں اور آپ اُن کو کبھی نہیں روکتے تو تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ اس پر میں اُسے کہا کرتا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت لاڈلی ہے اُس کا ذکر نہ کرو، باقی رہی تمہاری بیٹی سو اگر وہ ایسا کرتی ہے تواپنی گستاخی کی سزا کسی دن پائے گی۔