دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 362

جائے تو زیادہ پیا جاتا ہے اور اس سے معدہ خراب ہو جاتا ہے۔کھانے کے متعلق آپ کا اصول یہ تھا کہ جو چیزیں پاکیزہ اور طیب ہوں وہ کھائیں۔مگرا یسی طرز پر نہیں کہ غریبوں کا حق مارا جائے یا انسان کو تعیش کی عادت پڑ جائے۔چنانچہ عام طور پر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی۔لیکن اگر کوئی شخص کوئی اچھی چیز بطور تحفہ لے آتا تھا تو آپ اس کے کھانے سے انکار نہ کرتے۔مگریوں اپنے کھانے پینے کے لئے اچھے کھانے کی تلاش آپ کبھی نہیں کرتے تھے۔شہد آپ کو پسند تھا اسی طرح کھجور بھی۔آپ فرماتے تھے کھجور اور مؤمن کے درمیان ایک رشتہ ہے کھجور کے پتے بھی اور اُس کا چھلکا بھی اور اُس کا کچا پھل بھی اور اس کا پکا پھل بھی اور اس کی گٹھلی بھی سب کے سب کار آمد ہیں اس کی کوئی چیز بھی بیکار نہیں۔مؤمن کامل بھی ایسا ہی ہوتا ہے اس کا کوئی کام بھی لغو نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر کام بنی نوع انسان کے نفع کے لئے ہوتا ہے۔۴۱۵؎ لباس اور زیور میں سادگی اور تقویٰ لباس کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کوپسند فرماتے تھے آپ کا عام لباس کرتہ اور تہہ بند یا کرتہ اور پاجامہ ہوتا تھا۔آپ اپنا تہہ بند یا پاجامہ ٹخنوں سے اُوپر اور گھٹنوں سے نیچے رکھتے تھے۔گھٹنوں یا گھٹنوں سے اُوپر جسم کے ننگے ہو جانے کو آپ پسند نہیںفرماتے تھے سوائے مجبوری کے۔ایسا کپڑا جس پر تصویریں ہوں آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔نہ انسانی لباس میں اور نہ پردوں وغیرہ کی صورت میں۔خصوصاً بڑی تصویریں جو کہ شرک کے آثار میں سے ہیںاُن کی آپ کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے گھر میں ایسا کپڑا لٹکا ہوا تھا آپ نے دیکھا تو اُسے اُتروا دیا۔۴۱۶؎ ہاں چھوٹی چھوٹی تصویر جس کپڑے پر بنی ہوئی ہوں اُس کپڑے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان سے شرک کے خیالات کی طرف اشارہ نہیں ہوتا۔آپ ریشمی کپڑاکبھی نہیں پہنتے تھے نہ دوسرے مردوں کو ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت دیتے تھے۔بادشاہوں کو خط لکھنے کے وقت آپ نے ایک مہر والی انگوٹھی اپنے لئے بنوائی تھی مگر آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ سونے کی انگوٹھی نہ ہو بلکہ چاندی کی ہو کیونکہ سونا خدا تعالیٰ