دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 332

ہے؟ تو آپ نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے ہم نے تم کو معاف کر دیاہے۔عکرمہ نے کہا جو شخص اتنے شدید دشمنوں کو معاف کر سکتا ہے وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔میں گواہی دیتا ہوںکہ اللہ ایک ہے اور اُ س کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! تم اس کے بندے اور اُس کے رسول ہو اور پھر شرم سے اپنا سر جھکا لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حیا کی حالت کو دیکھ کر اس کے دل کی تسلی کے لئے فرمایا۔عکرمہ! ہم نے تمہیں صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس سے زائد یہ بات بھی ہے کہ اگر آج کوئی ایسی چیز مجھ سے مانگو جس کے دینے کی مجھ میں طاقت ہو تو میں وہ بھی تمہیں دے دوں گا۔عکرمہ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اور اس سے زیادہ میری خواہش کیا ہو سکتی ہے کہ آپ خد ا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ میں نے جو آپ کی دشمنیاں کی ہیں وہ مجھے معاف کر دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ا ے میرے اللہ! وہ تمام دشمنیاں جو عکرمہ نے مجھ سے کی ہیں اسے معاف کر دے اور وہ تمام گالیاں جو اس کے منہ سے نکلی ہیں وہ اسے بخش دے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور اپنی چادر اُتار کر اس کے اُوپر ڈال دی اور فرمایا جو اللہ پر ایمان لاتے ہوئے ہمارے پاس آتا ہے ہمارا گھر اُس کا گھر ہے اور ہماری جگہ اُس کی جگہ ہے۔۳۶۷؎ عکرمہ کے ایمان لانے سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو سالہا سال پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے بیان فرمائی تھی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں جنت میں ہوں، وہاں میں نے انگور کا ایک خوشہ دیکھا اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کے لئے ہے؟ تو کسی جواب دینے والے نے کہا ابوجہل کے لئے۔یہ بات مجھے عجیب معلوم ہوئی اور میں نے کہا جنت میں تو سوائے مؤمن کے اور کوئی داخل نہیں ہوتا پھر جنت میں ابوجہل کے لئے انگور کیسے مہیا کئے گئے ہیں؟ جب عکرمہ ایمان لایا تو آپ نے فرمایا وہ خوشہ عکرمہ کا تھا خدا نے بیٹے کی جگہ باپ کا نام ظاہر کیا ۳۶۸؎ جیسا کہ خوابوں میں اکثر ہو جایا کرتا ہے۔وہ لوگ جن کے قتل کا حکم دیاگیا تھا اُن میں وہ شخص بھی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینبؓ کی ہلاکت کا موجب ہوا تھا۔اس شخص کا نام ہبارؔ تھا۔اس نے حضرت زینبؓ کے اُونٹ کا تنگ کاٹ دیا تھا اور حضرت زینبؓ اُونٹ سے نیچے جا پڑی تھیں جس کی وجہ سے اُن کا