دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 324

یہی تھی کہ خدائے واحد کی توحید اوراس کی تبلیغ کو دنیا میں قائم کر دیں۔لشکر کے بعد لشکر گزر رہا تھا کہ اتنے میں اشجع قبیلے کا لشکر گزرا۔اسلام کی محبت اوراس کے لئے قربان ہونے کا جوش ان کے چہروں سے عیاں اور ان کے نعروں سے ظاہر تھا۔ابوسفیان نے کہا۔عباس! یہ کون ہیں؟ عباسؓ نے کہا یہ اشجع قبیلہ ہے۔ابوسفیان نے حیرت سے عباسؓ کا منہ دیکھا اور کہا سارے عرب میں اِن سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دشمن نہیں تھا۔عباسؓ نے کہا یہ خدا کا فضل ہے جب اُس نے چاہا ان کے دلوں میں اسلام کی محبت داخل ہو گئی۔سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کا لشکر لئے ہوئے گزرے۔یہ لوگ دو ہزار کی تعداد میں تھے اور سر سے پائوں تک زِرہ بکتروں میں چھپے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ اُن کی صفوں کو درست کرتے چلے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے قدموں کو سنبھال کر چلو تاکہ صفوں کا فاصلہ ٹھیک رہے۔اِن پرانے فدا کارانِ اسلام کا جوش اور ان کا عزم اور ان کا ولولہ ان کے چہروں سے ٹپکا پڑتا تھا۔ابوسفیان نے ان کو دیکھا تو اس کادل دہل گیا۔اس نے پوچھا عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار و مہاجرین کے لشکر میں جارہے ہیں۔ابوسفیان نے جواب دیا اس لشکر کا مقابلہ کرنے کی دنیا میں کس کو طاقت ہے۔پھر وہ حضرت عباسؓ سے مخاطب ہوااور کہا عباس! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا میںسب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔عباسؓ نے کہا اب بھی تیرے دل کی آنکھیں نہیں کھلیں یہ بادشاہت نہیں یہ تو نبوت ہے۔ابوسفیان نے کہا ہاں ہاں اچھا پھر نبوت ہی سہی۔۳۵۴؎ جس وقت یہ لشکر ابوسفیان کے سامنے سے گزر رہا تھا انصار کے کمانڈر سعد بن عبادہؓ نے ابوسفیان کو دیکھ کر کہا آج خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مکہ میں داخل ہونا تلوار کے زور سے حلال کر دیا ہے۔آج قریشی قوم ذلیل کر دی جائے گی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو اس نے بلند آواز سے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! کیا آپ نے اپنی قوم کے قتل کی اجازت دے دی ہے؟ ابھی ابھی انصار کے سردار سعدؓ اور ان کے ساتھی ایسا ایسا کہہ رہے تھے۔انہوں نے بلند آواز یہ کہا ہے آج لڑائی ہو گی اور مکہ کی حرمت آج ہم کو لڑائی سے باز نہیں رکھ سکے گی اور قریش کو ہم ذلیل کر کے چھوڑیں گے یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!آپ تو دنیا میں سب سے