دیباچہ تفسیر القرآن — Page 321
نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو حضرت عباسؓ سے فرمایا کہ ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے جائو اور رات اپنے پاس رکھو صبح اِسے میرے پاس لانا۔۳۵۰؎ چنانچہ رات ابوسفیا ن حضرت عباسؓ کے ساتھ رہا۔جب صبح اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے توفجر کی نماز کا وقت تھا۔مکہ کے لوگ صبح اُٹھ کر نماز پڑھنے کو کیا جانتے تھے اُس نے اِدھر اُدھر مسلمانوں کو پانی کے بھرے ہوئے لوٹے لے کر آتے جاتے دیکھا اور اسے نظر آیا کہ کوئی وضو کر رہا ہے کوئی صف بندی کر رہا ہے تو ابوسفیان نے سمجھا کہ شاید میرے لئے کوئی نئی قسم کا عذاب تجویز ہوا ہے۔چنانچہ اُس نے گھبرا کر حضرت عباسؓ سے پوچھا کہ یہ لوگ صبح صبح یہ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت عباسؓ نے کہا تمہارے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں یہ لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں۔اس کے بعد ابوسفیان نے دیکھا کہ ہزاروں ہزار مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے ہیں اور جب آپ رکوع کرتے ہیں تو سب کے سب رکوع کرتے ہیں اور جب آپ سجدہ کرتے ہیں تو سب کے سب سجدہ کرتے ہیں۔حضرت عباسؓ چونکہ پہرہ پر ہونے کی وجہ سے نماز میں شامل نہیں ہوئے تھے ابوسفیان نے اُن سے پوچھا اب یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں دیکھتا ہوں کہ جو کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہیں وہی یہ لوگ کرنے لگ جاتے ہیں۔عباس نے کہا تم کن خیالات میں پڑے ہو یہ تو نماز ادا ہو رہی ہے، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان کو حکم دیں کہ کھانا پینا چھوڑ دو تو یہ لوگ کھانا اور پینا بھی چھوڑ دیں۔ابوسفیان نے کہا۔میں نے کسریٰ کا دربار بھی دیکھا ہے اور قیصر کا دربار بھی دیکھا ہے لیکن اُن کی قوموں کو اُن کا اتنا فدائی نہیں دیکھا جتنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت اس کی فدائی ہے۔۳۵۱؎ پھر عباسؓ نے کہا کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آج یہ درخواست کرو کہ آپ اپنی قوم سے عفو کا معاملہ کریں۔جب نماز ختم ہو چکی تو حضرت عباسؓ ابوسفیان کو لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپؐ نے فر مایا۔ا بوسفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تجھ پر یہ حقیقت روشن ہو جائے کہ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔آپ نہایت ہی حلیم، نہایت ہی شریف اور نہایت ہی صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔میں اب یہ بات تو سمجھ چکا ہوں کہ اگر خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو کچھ تو ہماری