دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 17

ان کی اپنی قومیں انہیں دھوکاباز اور دغا باز کہتیں، تاریخیں ان کے ذکر کو نظر انداز کر دیتیں اور وہ ہمیشہ کیلئے بدنامی کے گڑھے میں گر جاتے۔پس ان کے دعویٰ میںاور نپولین اور ہٹلر وغیرہ کے دعویٰ میں زمین و آسمان کا فرق ہے اوراُن کی کامیابیوں اور ا ِن کی کامیابیوں میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔پھر ذرا ان لوگوں کے انجام کو بھی دیکھو۔نپولین،ہٹلراورچنگیز خان کو کتنے لوگ عقیدت اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔ہیرو تو وہ ہوتے ہیں جن کا قبضہ قوم کے ایک حصہ کے دماغوں پر بھی ہو لیکن کیا ان کے ہاتھوں اور پائوں اور دلوں پر بھی ان لوگوں کا قبضہ ہے؟ مگر اِن دُنیوی لیڈروں کے مقابلہ پر دینی راہبر ایسے تھے کہ لاکھوں آدمی ہر زمانہ میں ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اُسی طرف آنکھ اُٹھائی ہے جس طرف اُٹھانے کے لئے ان لوگوں نے کہا تھا اور اُسی بات کو سنا ہے جس کے سننے کی ان لوگوں نے اجازت دی تھی اور وہی فقرات اپنی زبان پر لائے ہیںجن فقرات کے بولنے کی ان کی طرف سے ہدایت تھی اور ان کے ہاتھ اور پائوں ان ہی کامو ں کے لئے چلے ہیں جن کاموںمیں حصہ لینے کی اُنہوں نے ترغیب دی تھی۔کیا دوسرے قومی لیڈروں کے متعلق اِس مثال کا لاکھواں یاکروڑواں حصہ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے؟ پس یہ لوگ یقینا خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اور ان کے لائے ہوئے مذہب یقینا خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے۔بانیانِ مذاہب کی تعلیم میں اختلاف کی وجہ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے تو ان کی تعلیمات میں اختلاف کیوں تھا؟ کیا خدا تعالیٰ مختلف تعلیمیں دے سکتا ہے جبکہ کوئی عقلمند انسان بھی مختلف تعلیمیں نہیں دیا کرتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ہی قسم کے حالات میں مختلف قسم کی تعلیمیں نہیں دی جاتیں بلکہ مختلف حالات میں مختلف تعلیمیں دینا ہی حکیم،ہستیوں کا کام ہوتا ہے۔آدم کے زمانہ میں تمام بنی نوع ایک ہی جگہ رہتے تھے اس لئے ان کے لئے ایک ہی قسم کی تعلیم کافی تھی۔شاید نوح ؑتک بھی یہی حالت تھی مگر میں اس کے متعلق قطعی رائے نہیں رکھتا۔بائبل کہتی ہے کہ بابل کے زمانہ تک تمام قومیں ایک ہی جگہ پر رہتی تھیں۔گو بائبل تاریخ کی کتاب نہیں لیکن ایک بات جو اس دعویٰ کی تائید میں مجھے تاریخ سے نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا