دیباچہ تفسیر القرآن — Page 277
اُن کو اپنے غلبہ کے ایام میں بجائے حکومت سے اپنی جیبیں بھرنے کے اور اپنی حالت سدھارنے کے غرباء کی خبر گیری اور امن کے قیام اور فساد کے دور کرنے اور قوم اور ملک کو ترقی دینے کی کوشش کرنے کو اپنا مقصد بنانا چاہئے۔(۲) پھر فرماتا ہے ۔۳۰۴؎ یعنی اُن لوگوں سے جو تم سے جنگ کر رہے ہیں تم بھی محض اللہ کی خاطر جس میں تمہارے اپنے نفس کا غصہ اور نفس کی ملونی شامل نہ ہو جنگ کرو اور یاد رکھو کہ جنگ میں بھی کوئی ظالمانہ فعل اختیار مت کرنا کیو نکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو بہر حال پسند نہیں کرتا۔اور جہاں کہیں بھی تمہاری اور اُن کی جنگ کے ذریعہ سے مٹھ بھیڑ ہوجائے وہاں تم اُن سے جنگ کرو اور یونہی اِکاّدُ کاّ ملنے والے پر حملہ مت کرو۔اور چونکہ انہوں نے تمہیں لڑائی کے لئے نکلنے پر مجبور کیا ہے تم بھی اُنہیں اُن کے جواب میں لڑائی کا چیلنج دو اور یاد رکھو کہ قتل اور لڑائی کی نسبت دین کی وجہ سے کسی کو دُکھ میں ڈالنا زیادہ خطرناک گناہ ہے۔پس تم ایسا طریق نہ اختیار کرو کیونکہ یہ بے دین لوگوں کا کام ہے۔اور چاہئے کہ تم مسجد حرام کے پاس اُن سے اُس وقت تک جنگ نہ کرو جب تک وہ جنگ کی ابتدا نہ کریں کیونکہ اس سے حج اور عمرہ کے راستہ میں روک پید ا ہوتی ہے۔ہاں اگر وہ خود ایسی جنگ کی ابتدا کریں تو پھر تم مجبور ہو اور تمہیں جواب دینے کی اجازت ہے۔جو لوگ عقل اور انصاف کے احکام کو ردّ کر دیتے ہیں اُن کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرنا پڑتا ہے۔لیکن اگر اُنہیں ہوش آجائے اور وہ اس بات سے رُک جائیں تو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔اِس لئے تم کو بھی چاہئے کہ ایسی صورت میں اپنے ہاتھوں کو روک لو اور اس خیال سے کہ یہ حملہ میں ابتدا کر چکے ہیں جوابی حملہ نہ کرو۔اور چونکہ وہ