دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 223

ساتھیوں کا حوالہ تو اُن لوگوں نے خود ہی دے دیا تھا حضرت مسیح کے حواریوں نے دشمن کے مقابلہ میں جو نمونہ دکھایا انجیل اِس پر گواہ ہے۔ایک نے تو چند روپوں پر اپنے اُستاد کو بیچ دیا۔دوسرے نے اُس پر لعنت کی اور باقی دس اُ س کو چھوڑ کر اِدھر سے اُدھر بھاگ گئے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھی صرف ڈیڑھ سال کی صحبت کے بعد ایمان میں اتنے پختہ ہو گئے کہ وہ اُن کے کہنے پر سمندر میں کودنے کے لئے بھی تیار تھے۔یہ مشورہ محض اِس غرض سے تھا تاکہ جو لوگ ایمان کے کمزور ہوں اُن کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے لیکن جب مہاجرین و انصار نے ایک دوسرے سے بڑھ کر اخلاص اور ایمان کا نمونہ دکھایا اور دونوں فریق نے اِ س بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ خد اکے وعدوں کے باوجود تعداد میں دشمن سے ایک تہائی ہونے کے اور باوجود سامانوں کے لحاظ سے دشمنوں سے کئی گنا کم ہونے کے بے غیرتی دکھاتے ہوئے جنگ سے پیٹھ نہیں دکھائیں گے بلکہ خد اتعالیٰ کے دین کی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں خوشی سے جان دے دیں گے۔تو آپ آگے بڑھے۔جب آپ بدر کے مقام پر پہنچے تو ایک صحابی کے مشورہ سے دشمن کے قریب جا کر بدر کے چشمہ پر اِسلامی لشکر اُتار دیا گیا۔لیکن اِس طرح گو پانی پر تو قبضہ ہو گیا مگر وہ میدان جو مسلمانوں کے حصہ میں آیا بوجہ ریتلا ہونے کے جنگی حرکات کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوا اور صحابہ گھبرا گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات دعا کرتے رہے اور بار بار خدا تعالیٰ سے یہ عرض کرتے تھے کہ اے میرے ربّ!ساری دنیا کے پردہ پر صرف یہی لوگ تیری عبادت کرنے والے ہیں۔اے میرے رب! اگر یہ لوگ آج اِس لڑائی میں مارے گئے تو تیرا نام لینے والا اس دنیا میں کون باقی رہے گا۔۲۴۹؎ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعائوں کو سنا اور رات کو بارش ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس میدان میں وہ مسلمان تھے بوجہ ریتلا ہونے کے بارش کی وجہ سے جم گیا اور وہ میدان جو کفّار کے قبضہ میں تھا بوجہ چکنی مٹی کا ہونے کے بارش کی وجہ سے نہایت پھسلواں ہو گیا۔شاید کفّارِ مکہ نے باوجود اُس میدان میں مسلمانوں سے پہلے پہنچ جانے کے اِس لئے اُس میدان کو چنا تھا کہ پختہ مٹی کی وجہ سے اُس میں جنگی حرکات بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتی تھیں اور سامنے کا